بھارت کے جارحانہ عزائم خطے کے امن و سلامتی کیلئے خطرناک ہیں، اس کے میزائل تجربات سے خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہوگی،پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی خطرے کی صورت میں ملکی سرحدوں کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہیں،افغان حکومت کے کنٹرول سے باہر 43 فیصد علاقہ تمام خطے کیلئے خطرہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ اسلام آباد ۔ 14 دسمبر (اے پی …
ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

مزید خبریں
بھارت کے جارحانہ عزائم خطے کے امن و سلامتی کیلئے خطرناک ہیں، اس کے میزائل تجربات سے خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہوگی،پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی خطرے کی صورت میں ملکی سرحدوں کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہیں،افغان حکومت کے کنٹرول سے باہر 43 فیصد علاقہ تمام خطے کیلئے خطرہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ
اسلام آباد ۔ 14 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کے میزائل تجربات سے خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہوگی، بھارت کے جارحانہ عزائم خطے کے امن و سلامتی کیلئے خطرناک ہیں۔بھارت خطے پر بالادستی کے خواب دیکھتا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی خطرے کی صورت میں ملکی سرحدوں کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہیں۔کلبھوشن یادیو سے ان کی اہلیہ اور والدہ کی ملاقات 25 دسمبر کو ہوگی۔افغان حکومت کے کنٹرول سے باہر 43 فیصد علاقہ نہ صرف افغانستان بلکہ تمام خطے کیلئے خطرہ ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے نئی دہلی کی جانب سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے پر بالا دستی کے خواب دیکھتا ہے۔بھارت کی جانب سے میزائل ترجربا سے خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہو گی جبکہ بھارتی جارحانہ عزائم ہمسایہ ملکوں اور تمام خطے کے امن و سلامتی کیلئے خطرناک ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے ان کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات 25 دسمبر کو ہوگی ۔اس موقع پر مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی جبکہ ملاقات کے حوالے سے دیگر تفصیلات اور معاملات طے کئے جارہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے کلبھوش کیس سے متعلق عالمی عدالت انصاف میں جواب جمع کیا جس میں تمام قانونی پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ترجمان نے حال ہی میں پاکستان سے متعلق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کو مسترد کیا اور اسے بے بنیاد اور غیر زمہ دارانہ قرار دیا۔ترجمان نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی معاملات میں پاکستان کو نہ گسیٹے اور چیلنجوں کا اپنے بل بوتے پر سامنا کریں۔ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں پر مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی برادی کی توجہ ہٹانے کیلئے اس قسم کے غیر زمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے۔








