پاکستان کی کاروباری برادری اور سفارتی مشنز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ، فہیم الرحمن سہگل کا لاہور چیمبر میں ایمبیسیڈرز ڈنر کی سالانہ تقریب سے خطاب

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے پاکستان کی کاروباری برادری اور سفارتی مشنز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے تاکہ تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول، کاروبار سے کاروبار کے روابط بڑھانے اور باہمی فائدہ مند معاشی مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکے۔

لاہور۔19ستمبر (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے پاکستان کی کاروباری برادری اور سفارتی مشنز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے تاکہ تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول، کاروبار سے کاروبار کے روابط بڑھانے اور باہمی فائدہ مند معاشی مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکے۔ لاہور چیمبر ایمبیسیڈرز ڈنر 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سالانہ تقریب لاہور چیمبر کی سفارتی برادری کے ساتھ دوستی اور روابط کو دی جانے والی اہمیت کی عکاسی ہے۔

تقریب میں ترکمانستان کے سفیر اور پاکستان میں سفارت کار کور کے ڈین عطاجان مولاموف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ جرمنی، بوسنیا، پولینڈ، یمن، فلسطین، ویتنام، فلپائن، پرتگال، کرغزستان، عمان، ناروے، نیپال، ملائیشیا، جاپان، بنگلہ دیش، ازبکستان، سری لنکا، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے سفیر و ہائی کمشنرز،لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، کنوینئر ڈاکٹر ریاض احمد اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران عامر علی، رانا شعبان اختر، فردوس نثار، وقاص اسلم،عمران سلمی،ملک آصف اور ندیم انصاری بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفارتی کور کے ڈین اور ترکمانستان کے سفیر عطاجان مولاموف نے روایتی سالانہ ایمبیسیڈرز ڈنر منعقد کرنے پر لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نجی شعبہ برآمدات بڑھانے، زیادہ مالیت کی سرمایہ کاری لانے، پائیدار روزگار پیدا کرنے اور پاکستان کو عالمی ویلیو چینزکے ساتھ مزید مضبوطی سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی سفارت کاری بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے جبکہ سفارتی مشنز کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور عالمی منڈیوں کے درمیان روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارتی تعلقات کو عملی اور موثر معاشی تعاون میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔سفیر عطاجان مولاموف نے کہا کہ تجارت میں سہولت، اسٹریٹجک سرمایہ کاری، قابل تجدید توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس ایسے شعبے ہیں جہاں تعاون کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے پر لاہور چیمبرکی توجہ کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور دیگر خطوں سے ملانے میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہتر علاقائی رابطہ، ٹرانزٹ نظام میں بہتری ،ابھرتے ہوئے تجارتی راستے ،نئی منڈیوں تک رسائی اور وسیع علاقائی معاشی تعاون کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان تعاون کے حوالے سے سفیر عطاجان مولاموف نے کہا کہ ترکمانستان علاقائی رابطوں کو بہت اہمیت دیتا ہے ،ٹرانسپورٹ، توانائی اور تجارتی راستوں کو معاشی ترقی، امن وباہمی خوشحالی کی بنیاد سمجھتا ہے۔ انہوں نے تاپی گیس پائپ لائن کو علاقائی تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے پر کام آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے بجلی کی ترسیل اور تیز رفتار فائبر آپٹک رابطے کے شعبوں میں تعاون کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ترکمانستان پاکستان کو ایک اہم بحری راستے اور خطے کے لیے قدرتی معاشی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔

سفیر نے کہا کہ ایسی تقریب کی کامیابی کا حتمی اندازہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ اس کے بعد کتنے کاروباری وفود متحرک ہوتے ہیں، کتنے مشترکہ منصوبے قائم ہوتے اور عملی تجارتی رکاوٹیں کتنی دور کی جاتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عشائیہ پاکستان اور عالمی برادری کے درمیان مزید مضبوط روابط اور عملی شراکت داری کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ سفارتی مشنز اور ان کے کمرشل سیکشنز پاکستانی کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں کی تلاش، قابل اعتماد بین الاقوامی شراکت داروں کی نشاندہی اور بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے اعتماد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوںنے پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ کاروباری ملاقاتوں میں سہولت فراہم کرنے، تجارتی معلومات فراہم کرنے اور پاکستانی کاروباری اداروں کو اپنے ممالک کی کمپنیوں سے روابط قائم کرانے میں سفارت خانوں اور کمرشل سیکشنز کے تعاون کو خصوصی طور پر سراہا۔

لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول میں کاروبار کے لیے سفارت کاری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ کاروباری سرگرمیوں اور ترقی کے لیے امن، استحکام اور قابل پیش گوئی پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، فوڈ پروسیسنگ، لاجسٹکس، بحری امور، کان کنی، تعمیرات، سیاحت اور خدمات کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ فہیم الرحمن سہگل نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے زیادہ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایس ایم ایز معیاری مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم انہیں عالمی منڈیوں کے تقاضوں اور بین الاقوامی معیار کے بارے میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل سی سی آئی سفارتی مشنز کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتوں، شعبہ جاتی کاروباری روابط اور بروقت معلومات کے تبادلے کے ذریعے قریبی تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے باقاعدہ فالو اپ کا نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ ایسی تقریبات کے ذریعے قائم ہونے والے روابط اور ہونے والی بات چیت کو عملی کاروباری مواقع میں تبدیل کیا جاسکے۔لاہور چیمبر ایمبیسیڈرز ڈنر ہر سال لاہور چیمبر، سفارتی مشنز اور عالمی کاروباری برادری کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور تجارت و معاشی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔

مزید خبریں