ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی تعاون کی تنظیم ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے چین کے شہر ہائیکو میں باؤ فورم فار ایشیا (بی ایف اے) کی دو اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت کی جہاں انہوں نے علاقائی اقتصادی انضمام، رابطہ کاری، جدت اور عالمی صحت کے شعبے میں تعاون کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی۔ڈی ایٹ سیکرٹری جنرل نے بی ایف اے کے سیکرٹری جنرل ژانگ …
ڈی ایٹ سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی چین میں باؤ فورم ایشیا کی اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی تعاون کی تنظیم ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے چین کے شہر ہائیکو میں باؤ فورم فار ایشیا (بی ایف اے) کی دو اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت کی جہاں انہوں نے علاقائی اقتصادی انضمام، رابطہ کاری، جدت اور عالمی صحت کے شعبے میں تعاون کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی۔ڈی ایٹ سیکرٹری جنرل نے بی ایف اے کے سیکرٹری جنرل ژانگ جون کی دعوت پر 15 سے 17 ستمبر تک ایشیا پیسیفک علاقائی تعاون گول میز کانفرنس اور 2026 ہائیکو گلوبل ہیلتھ فورم کانفرنس میں شرکت کی۔
اس دوران انہوں نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم شرکا سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں جن کا مقصد ڈی ایٹ کے ادارہ جاتی اور شعبہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کرنا تھا۔تقریبات میں 30 سے زائد ممالک اور خطوں سے تقریباً 300 مندوبین نے شرکت کی جن میں اعلیٰ حکومتی نمائندگان، بین الاقوامی تنظیمیں، کاروباری رہنما، ماہرین تعلیم، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندگان شامل تھے۔علاقائی تعاون گول میز کانفرنس کے ’’ایف ٹی اے اے پی کے وژن کی جانب علاقائی اقتصادی انضمام میں تیزی‘‘ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایٹ سیکرٹری جنرل نے عالمی اقتصادی ترقی، تجارت اور سرمایہ کاری میں ایشیا پیسیفک کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے علاقائی اقتصادی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیےکھلے پن، رابطہ کاری اور عملی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پالیسیوں میں زیادہ ہم آہنگی، مضبوط اور لچکدار سپلائی و ویلیو چینز، علاقائی تجارتی و اقتصادی انتظامات میں زیادہ تعاون اور جدت و ڈیجیٹل تبدیلی کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔انہوں نے تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ڈی ایٹ کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی نو رکن ریاستوں اور ایشیا بھر کے شراکت داروں کے درمیان مضبوط روابط کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔سیکرٹری جنرل نے گول میز کانفرنس کے مزید تین اجلاسوں میں بھی شرکت کی جن میں ’’مشرق وسطیٰ کے بحران کے تناظر میں ایشیائی معیشت‘‘، ’’توانائی اور اقتصادی سلامتی کے لیے علاقائی رابطہ کاری اور سپلائی چین کی لچک میں اضافہ‘‘ اور ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیجیٹل معیشت اور عالمی حکمرانی‘‘ کے موضوعات شامل تھے۔
گلوبل ہیلتھ فورم میں انہوں نے ’’زیادہ کثیر قطبی، مؤثر اور پائیدار عالمی صحت نظام کے قیام‘‘ کے موضوع پر پینل بحث میں بطور مقرر شرکت کی۔انہوں نے زیادہ منصفانہ اور پائیدار عالمی صحت نظام کے لیے تین ترجیحات بیان کیں جن میں مضبوط ادارے اور وسیع ترشمولیت، مساوات اور جدت پر مبنی یونیورسل ہیلتھ کوریج اور مستقل و نتائج پر مبنی تعاون شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی صحت کے نظام، علاقائی تعاون اور مؤثر کثیرالجہتی اداروں کو ایک دوسرے کی معاونت کرنی چاہیے جبکہ ڈیجیٹل ہیلتھ، ٹیلی میڈیسن اور مصنوعی ذہانت جیسی جدتوں سے صحت کے شعبے میں عدم مساوات کم کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔ڈی ایٹ کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے رکن ممالک کی دواسازی اور ویکسین، بائیوٹیکنالوجی، طبی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ہیلتھ، تحقیق اور عوامی صحت کے نظام میں موجود باہمی تکمیلی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ استعداد کار میں اضافے، مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی شراکت داری اور جہاں ممکن ہو مشترکہ ترقی و پیداوار کے ذریعے ان صلاحیتوں کو مربوط کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔سائیڈ لائن پر سفیر سہیل محمود نے باؤ فورم فار ایشیا کے سیکرٹری جنرل سفیر ژانگ جون سے بھی تفصیلی دوطرفہ ملاقات کی۔ ملاقات میں بین الاقوامی و علاقائی اقتصادی صورتحال، تجارت اور اقتصادی انضمام کے عمل کے علاوہ ڈی ایٹ اور باؤ فورم کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری روابط، رابطہ کاری، جدت اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں عملی مواقع تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے باہمی مفاد پر مبنی اقدامات کے ذریعے دونوں تنظیموں کے اقتصادی نیٹ ورکس اور صلاحیتوں کو مربوط کرنے کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔
ڈی ایٹ سیکرٹری جنرل نے بنگلہ دیش کے وزیر صحت و خاندانی بہبود سردار محمد سکہوت حسین سے بھی ملاقات کی جس میں ڈی ایٹ کے تحت عملی صحت تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے وزیر کو حالیہ پیش رفت،متفقہ ترجیحات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے سیکرٹریٹ کی کوششوں اور ڈی ایٹ کے صحت تعاون کے ایجنڈے کے آئندہ اقدامات، جن میں ترکیہ میں ڈی ایٹ وزارتی اجلاس برائے صحت بھی شامل ہے، سے آگاہ کیا۔بنگلہ دیشی وزیر نے پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈی ایٹ کے صحت سے متعلق اقدامات کے لیے بنگلہ دیش کی فعال حمایت اور ان پر عملدرآمد میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔17 ستمبر کو سیکرٹری جنرل نے ہائیکو بائیو سٹی، بلوم ایج بائیوٹیکنالوجی انڈسٹریل پارک، فل سنگ ٹاؤن انٹرنیشنل ڈیجیٹل پورٹ اور ہائینان یونیورسٹی سائنس پارک سمیت ہائینان فری ٹریڈ پورٹ کی اہم جدت و ٹیکنالوجی تنصیبات کے مطالعاتی دورے میں بھی شرکت کی۔ان سہولیات کے دورے سے چین کے بائیوٹیکنالوجی،ڈیجیٹل جدت اور سائنس و صنعت کے باہمی تعاون کے تجربے کے بارے میں مفید معلومات حاصل ہوئیں۔
2001 میں قائم ہونے والا باؤ فورم فار ایشیا، جس کا صدر دفتر چین میں ہے، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں کے درمیان اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ فورم 29 رکن ممالک کی مشترکہ کوشش سے قائم ہوا اور اس کی سالانہ کانفرنس صوبہ ہائینان کے شہر باؤ میں منعقد ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون باؤ فورم فار ایشیا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے موجودہ چیئرمین ہیں۔سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت باؤ فورم میں ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی تعاون کی تنظیم ڈی ایٹ کی پہلی مرتبہ نمائندگی ہے، جو ڈی ایٹ سیکرٹریٹ کی بین الاقوامی روابط اور تشخص کو وسعت دینے، باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے فروغ اور مذاکرات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی جاری کوششوں کی عکاس ہے۔
دورے کے اختتام پر سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے باؤ فورم فار ایشیا کے سیکرٹری جنرل ژانگ جون، باؤ فورم فار ایشیا اور ہائینان فری ٹریڈ پورٹ کی صوبائی قیادت اور متعلقہ حکام کا پرتپاک میزبانی اور بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور ان کی ٹیم کا بھی دورے میں سہولت کاری اور قیمتی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔







