وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ہفتہ کو پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے وفد نے ملاقات کی، وفدکی قیادت ڈائریکٹر جنرل ایئر وائس مارشل ذیشان سعید نے کی۔وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں صوبے میں ہوا بازی کے شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کے جامع پیکیج کا جائزہ لیا گیا
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے وفدکی ملاقات

مزید خبریں
کراچی۔ 19 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ہفتہ کو پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے وفد نے ملاقات کی، وفدکی قیادت ڈائریکٹر جنرل ایئر وائس مارشل ذیشان سعید نے کی۔وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں صوبے میں ہوا بازی کے شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کے جامع پیکیج کا جائزہ لیا گیا، جس میں سکھر میں مجوزہ گرین فیلڈ ایئرپورٹ، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی بہتری اور توسیع، حیدرآباد ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن اور سول ایوی ایشن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (کیٹی) حیدرآباد کو پاکستان کی پہلی مختص ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ملاقات میں سندھ کے ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، مسافروں کی سہولیات اور رابطوں کو بہتر بنانے، ایئرپورٹس کی گنجائش بڑھانے، آپریشنل سیفٹی میں بہتری اور ہوا بازی سے متعلق تعلیم و مہارتوں کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ پی اے اے کے وفد نے وزیراعلی کو منصوبوں کی صورتحال سے آگاہ کیا اور زمین کے حصول، اراضی کے ریکارڈ، سڑکوں کے رابطوں اور صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر امور میں حکومت سندھ کے تعاون کی درخواست کی۔اس موقع پر وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور کمشنر کراچی حسن نقوی نے شرکت کی جبکہ پی اے اے کے وفد میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ورکس اینڈ ڈویلپمنٹ) انجینئر سمیر سعید، ڈائریکٹر انجینئرنگ سروسز انجینئر کاشف شاہ، ڈائریکٹر کمرشل عبدالباسط، سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ایم انجینئر ظفر اللہ مہیسر، پروجیکٹ ڈائریکٹر گرین فیلڈ ایئرپورٹ سکھر انجینئر حافظ زاہد، پروجیکٹ ڈائریکٹر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ امپروومنٹ پروجیکٹ انجینئر عرفان خان اور سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ احتشام موجود تھے۔ وزیراعلی کو سکھر کے علاقے میں نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹ کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
مجوزہ ایئرپورٹ کو بالائی سندھ اور ملحقہ علاقوں کے لیے علاقائی گیٹ وے کے طور پر قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کی سالانہ گنجائش 16 لاکھ مسافروں تک ہوگی اور بڑے طیاروں کو آپریٹ کرنے کی سہولت ہوگی۔ مجوزہ ایئرپورٹ کراچی سے رخ موڑنے والی پروازوں کے لیے متبادل ایئرپورٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا۔فزیبلٹی جائزے کے مطابق موجودہ سکھر ایئرپورٹ کو فضائی حدود، زمین اور مستقبل میں توسیع سے متعلق رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ مجوزہ گرین فیلڈ ایئرپورٹ تجارتی ہوا بازی اور علاقائی رابطوں کے لیے زیادہ گنجائش فراہم کرے گا۔مطالعے کے مطابق سکھر کے وسیع علاقے میں بڑی آبادی موجود ہے اور تین گھنٹے کے سفری دائرے میں 2 کروڑ 96 لاکھ سے زائد افراد آتے ہیں، جس سے خطے میں بہتر فضائی رابطے کی ضرورت مزید واضح ہوتی ہے۔پی اے اے نے بتایا کہ نئے ایئرپورٹ کی تعمیر کے لیے تقریبا 3 ہزار ایکڑ زمین درکار ہوگی اور زمین کے حصول کے عمل میں حکومت سندھ سے تعاون طلب کیا۔ پی اے اے نے علاقائی ترقیاتی منصوبوں کو ایئرپورٹ منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تجویز بھی دی اور حکومت سندھ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت منصوبے میں شرکت پر غور کرنے کی دعوت دی، جس میں زمین کو ایکویٹی کے طور پر شامل کرنے اور باہمی طور پر طے شدہ دیگر انتظامات کی گنجائش ہوگی۔وزیراعلی نے متعلقہ صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ زمین اور رابطوں سے متعلق امور پر پی اے اے کے ساتھ رابطہ کاری میں سہولت فراہم کی جائے اور مجوزہ شراکت داری کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے تاکہ منصوبے کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔ ملاقات میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جاری بہتری اور جدید کاری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پی اے اے نے وزیراعلی کو مسافروں کی سہولیات میں بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی، جن میں فرش، چھتوں، دیواروں کی کلڈنگ، روشنی، سائن بورڈز، کانٹرز، عمارت کے جوڑ اور کار پارکنگ شامل ہیں۔
منصوبے میں وادی سندھ کی تہذیب کے ثقافتی ورثے اور تاریخ کی عکاسی کرنے والے عناصر بھی شامل کیے جارہے ہیں۔ پی سی ون اور تفصیلی ڈیزائن کی تیاری جاری ہے، جبکہ منصوبے کی مجوزہ مدت دو سال ہے۔بریفنگ میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اہم رن وے منصوبے کے بارے میں بھی بتایا گیا، جس کے تحت رن وے کی تعمیر نو کرکے اس کی لمبائی 3 ہزار 200 میٹر سے بڑھا کر 3 ہزار 500 میٹر کردی گئی۔ پریزنٹیشن کے مطابق یہ کام معاہدے کی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرکے فعال کردیا گیا، جبکہ ٹیکسی ویز، ایئر فیلڈ لائٹنگ اور نیویگیشن معاون نظام میں بھی بہتری لائی گئی۔پی اے اے نے وزیراعلی کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 285 فٹ بلند نئے اے ٹی سی ٹاور اور جدید 10 بے فائر اسٹیشن کی مجوزہ تعمیر سے بھی آگاہ کیا۔ نئی سہولیات کا مقصد نگرانی اور دیکھنے کی صلاحیت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی استعداد اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایئر سائیڈ آپریشنز کو بہتر بنانا ہے۔ایئرپورٹ ٹرمینل کی مجوزہ توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
توسیع کے ایک آپشن کے تحت تقریبا ایک لاکھ 15 ہزار مربع میٹر پر مشتمل موجودہ مسافر ٹرمینل عمارت کو بڑھا کر تقریبا 4 لاکھ مربع میٹر کیا جائے گا، جبکہ بورڈنگ برجز کی تعداد 12 سے بڑھا کر 25 کردی جائے گی۔ دوسرے آپشن کے تحت مزید بڑے منصوبے میں 50 بورڈنگ برجز اور سالانہ 7 کروڑ 50 لاکھ مسافروں تک کی گنجائش رکھی گئی ہے۔وزیراعلی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ایئرپورٹ کی توسیع اور جدید کاری کے لیے سڑکوں کے رابطوں، زمین سے متعلق امور اور دیگر صوبائی معاملات پر پی اے اے کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے۔پی اے اے نے حیدرآباد ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن کے منصوبے بھی پیش کیے اور اسے ممکنہ علاقائی ہوا بازی مرکز اور کراچی کے متبادل ایئرپورٹ کے طور پر بیان کیا۔ مجوزہ منصوبے میں موجودہ 7 ہزار فٹ رن وے کو 11 ہزار 500 فٹ تک توسیع دینے کے ساتھ جدید ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے اور حفاظتی نظام میں بہتری شامل ہے۔منصوبے کا مقصد علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور حیدرآباد و ملحقہ علاقوں سے زرعی اور دیگر مصنوعات کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
یہ منصوبہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل رکاوٹوں سے متاثر ہونے والی پروازوں کے لیے اضافی متبادل راستہ بھی فراہم کرے گا۔پی اے اے نے حیدرآباد ایئرپورٹ کی تقریبا ایک ہزار 473 ایکڑ اراضی سے متعلق اراضی کی منتقلی اور تجاوزات کے حل طلب مسائل کی نشاندہی کی اور معاملے کے حل اور اس اہم منصوبے پر عملدرآمد میں سہولت کے لیے حکومت سندھ سے تعاون طلب کیا۔وزیراعلی نے متعلقہ صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ اراضی سے متعلق مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور حیدرآباد ایئرپورٹ کی ترقی میں سہولت کے لیے پی اے اے کے ساتھ رابطہ کاری کی جائے۔اجلاس میں سول ایوی ایشن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (کیٹی) حیدرآباد کو پاکستان کی پہلی مختص ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔1982میں 100 ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم کیا گیا کیٹی، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے علاقائی تربیتی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے اور 49 ممالک کے شرکاء سمیت 2,500 کورسز کے ذریعے 25 ہزار سے زائد افراد کو تربیت فراہم کرچکا ہے۔
اس کے چار اسکولز ایئر نیویگیشن سروسز، ایئرپورٹ سروسز، ریگولیٹری سروسز اور ایوی ایشن مینجمنٹ کا احاطہ کرتے ہیں۔پی اے اے نے وزیراعلی کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں اعلی تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) سے منظور شدہ ایسی کوئی یونیورسٹی موجود نہیں جو خصوصی طور پر ہوا بازی اور متعلقہ شعبوں کے لیے مختص ہو۔ پی اے اے نے کہا کہ مجوزہ یونیورسٹی تربیت یافتہ ہوا بازی کے ماہرین کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے میں مدد دے گی۔پی اے اے نے انسٹی ٹیوٹ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کوٹری کو حیدرآباد شہر سے ملانے والی سڑک کی تعمیر میں حکومت سندھ سے تعاون طلب کیا۔ اس نے مجوزہ ایوی ایشن یونیورسٹی کے لیے مقام پر موجود پہلے سے تعمیر شدہ ڈھانچوں کو استعمال کرنے کی تجویز بھی دی، تاہم یہ متعلقہ اراضی کے مسائل کے حل سے مشروط ہوگی۔وزیراعلی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سڑک رابطے اور دیگر صوبائی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تاکہ ہوا بازی کی تعلیم کی اس سہولت کی ترقی میں آسانی پیدا کی جاسکے۔
وزیراعلی نے سندھ میں ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے صوبائی حکومت اور پی اے اے کے درمیان مربوط منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اپنے دائرہ اختیار میں ضروری سہولت فراہم کریں، خصوصا زمین، سڑکوں کے رابطے، ترقیاتی منصوبہ بندی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کاری کے معاملات میں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بہتر ہوا بازی کا بنیادی ڈھانچہ سندھ کے بڑے شہروں اور معاشی مراکز کے درمیان رابطے مضبوط کرے گا، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، سیاحت میں سہولت فراہم کرے گا اور مسافروں کی خدمات بہتر بنائے گا۔
انہوں نے پی اے اے کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت سندھ اسٹریٹجک اہمیت کے منصوبوں کے لیے ضروری تعاون فراہم کرے گی اور متعلقہ محکمے صوبائی سطح کے مسائل حل کرنے اور عملدرآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پی اے اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے۔وزیراعلی نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ایئرپورٹ کی ترقی کو علاقائی سڑکوں کے نیٹ ورک اور وسیع تر ترقیاتی منصوبہ بندی کے ساتھ مناسب طور پر مربوط کیا جائے تاکہ ہوا بازی کے بڑے منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو زیادہ سے زیادہ کیا جاسکے۔







