وزارت اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے خوارج کے بدترین عناصر کی جانب سے کیا جانے والا یہ حملہ یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی جواز ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس …
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):وزارت اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے خوارج کے بدترین عناصر کی جانب سے کیا جانے والا یہ حملہ یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی جواز ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایسے اقدامات کا ارتکاب، سہولت کاری یا پناہ دینے والے انسانیت کے بدترین دشمن ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بارہا اس سنگین تشویش کا اظہار کر چکا ہے کہ فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہ پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ ان کے بھرتی اور معاونت کے نیٹ ورکس پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، یہ خدشات افغان طالبان حکومت اور اس کے متعلقہ فریقوں کے سامنے بارہا اٹھائے گئے ہیں، انہیں ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے ان نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس تناظر میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دینا انتہائی قابل مذمت ہے جبکہ ان کی حکومت پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان کو بدنام کرنے اور ذمہ داری سے پہلوتہی کرنے کی کوشش کی بجائے اپنی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے دہشت گردی کے نظام کا خاتمہ کرنا چاہیے، ایسی حرکتیں نہ دوحہ معاہدے کے تحت ان کی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو چھپا سکتی ہیں اور نہ ہی انہیں افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے بری کر سکتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کو نوٹ کیا ہے تاہم اس بیان میں دہشت گردی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ مذمت کو ٹھوس اقدامات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، افغان طالبان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے، انتہاپسندوں کی بھرتی اور تربیت کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری یا کارروائی سے روکنے کے لیے قابلِ اعتبار، قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کرنا ہوں گے۔ بیان کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ ہمیشہ مذاکرات اور تعمیری روابط کو ترجیح دی ہے تاہم پاکستان اپنے عوام کو دھمکیاں دینے والوں کو مذاکرات کی آڑ میں تحفظ فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی کے خطرات کو جہاں کہیں بھی موجود ہوں، ختم کرنے کا عزم اور صلاحیت دونوں موجود ہیں اور اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے بارہا خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی اور سرگرمیاں عدم استحکام میں اضافے کا باعث بنیں گی، جس کے خطے اور عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وزارت اطلاعات نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس خطرے کو خطے اور اس سے باہر مزید پھیلنے سے پہلے افغان طالبان حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اس خطرے کے تدارک کے لیے فیصلہ کن اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔








