جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں خواتین کاروباری شخصیات سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس کو پائیدار کاروبار میں تبدیل کر رہی ہیں۔ وہ گھر بیٹھے کامیاب آن لائن سٹورز، فری لانسنگ کی خدمات اور ڈیجیٹل برانڈز چلا کر مالی طور پر خود مختار ہو رہی ہیں۔
اسلام آباد کی خواتین آن لائن کاروبار کے ذریعے خود کفالت کے سفر پر گامزن

مزید خبریں
اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں خواتین کاروباری شخصیات سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس کو پائیدار کاروبار میں تبدیل کر رہی ہیں۔ وہ گھر بیٹھے کامیاب آن لائن سٹورز، فری لانسنگ کی خدمات اور ڈیجیٹل برانڈز چلا کر مالی طور پر خود مختار ہو رہی ہیں۔انٹرنیٹ تک بڑھتی ہوئی رسائی، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور ڈیجی اسکلز (DigiSkills) اورای-روزگار (e-Rozgaar) جیسے حکومتی تربیتی پروگراموں کی بدولت خواتین کاروباری مالکان کی ایک نئی نسل ابھر کر سامنے آرہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آن لائن کاروبار کا ایک چھوٹا سا خیال ایک بڑے کاروباری ادارے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
خواتین اپنے آن لائن کاروبار کی خود مختار مالکان کے طور پر سامنے آ رہی ہیں، اچھی آمدنی حاصل کر رہی ہیں اور مالی طور پر خود کفیل ہو رہی ہیں جبکہ اکثر خواتین اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے والی واحد کمانے والا فرد بھی ہوتی ہیں۔گھر سے چلنے والی بیکریوں اور انسٹاگرام پر کپڑوں کے سٹورز سے لے کر فری لانسنگ اور یوٹیوب چینلز تک خواتین موبائل ، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سکرینوں کو کامیاب دکانوں اور دفاتر میں تبدیل کر رہی ہیں۔جی-11 میں انیلاز بیک او کلاک (Aneela’s Bake O’Clock) کی مالکہ 30 سالہ انیلا طارق نے کووڈ-19 کے دوران گھر پر کیک بنانا شروع کیے اور انسٹاگرام پر آرڈرز وسول کرنے کا آغاز کیا ۔ آج ان کو روزانہ 20 سے 30 آرڈرز موصول ہوتے ہیں اور وہ ماہانہ 2 لاکھ روپے سے زیادہ کماتی ہیں
انہوں نے اے پی پی کو بتایا کہ میں نے ایک اوون اور فیس بک پیج سے شروعات کی تھی۔ اب میرے ساتھ تین ملازمین ہیں، جو سب میرے محلے کی خواتین ہیں۔ آن لائن کاروبار نے مجھے گھر سے باہر نکلے بغیر شناخت اور آمدنی فراہم کی۔انہوں نے مزید بتایا کہ بہت سی خواتین جو کبھی دوسروں پر انحصار کرتی تھیں اب بچوں کی سکول فیس ادا کر رہی ہیں، گھریلو اخراجات سنبھال رہی ہیں اور اپنے اہل خانہ کی مالی معاونت بھی کر رہی ہیں۔اسی طرح راولپنڈی میں قائم زارا-ہینڈ میڈ جیولری (Zara-Handmade Jewelry) کی بانی زارا احمد ہاتھ سے تیار کردہ بالیاں اور ہینڈ بیگز دراز اور انسٹاگرام کے ذریعے پورے پاکستان اور دبئی میں صارفین کو فروخت کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری دکان آن لائن ہے، میرے گاہک آن لائن ہیں۔
مجھے کسی بڑے پلازہ کی ضرورت نہیں۔ میں نے 10 ہزار روپے سے شروعات کی تھی اور اب میرا ماہانہ کاروباریٹرن اوور 3 لاکھ روپے ہے۔آئی-8 کی رہائشی سنبل شیخ جو آن لائن عبایا سٹور موڈیسٹ ویئر بائے سنبل (Modest Wear by Sumbal) چلاتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ خواتین آن لائن فروخت کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہیں۔ بہت سی خواتین گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے روزانہ بازار نہیں جا سکتیں۔ آن لائن کام ہمیں گھر اور کاروبار کو سنبھالنے کی سہولت دیتا ہے۔
میں اپنے موبائل سے ہی سٹور، پارسلز اور ادائیگیوں کے معاملات سنبھالتی ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بہتر انٹرنیٹ رسائی، ڈیجیٹل خواندگی اور آن لائن ادائیگی کے محفوظ نظام فراہم کیے جائیں تو خواتین کی زیرِ قیادت چلنے والے آن لائن کاروبار پاکستان کی ای کامرس معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان خواتین کے لیے اسکرین اب محض اسکرولنگ کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک دکان، ایک دفتر اور خود انحصاری کی جانب بڑھنے کا ایک راستہ بھی بن چکا ہے۔








