سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے مضبوط بحری مستقبل کے لیے اہم تزویراتی فائدہ فراہم کرتی ہے، خصوصا ایسے وقت میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جب عالمی سپلائی چینز میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
پاکستان تاریخی طور پر ایک اہم بحری گیٹ وے رہا ہے ۔ افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔20ستمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے مضبوط بحری مستقبل کے لیے اہم تزویراتی فائدہ فراہم کرتی ہے، خصوصا ایسے وقت میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جب عالمی سپلائی چینز میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اتوار کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بحیرہ عرب سے متصل ساحلی پٹی اسے عالمی شپنگ تک رسائی فراہم کرتی ہے، جبکہ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ قومی معیشت کو اسٹریٹجک گہرائی فراہم کر سکتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے جہازوں کی بہتر منصوبہ بندی، کارگو آپٹیمائزیشن، پیشگی مرمت اور سپلائی چین مینجمنٹ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان تاریخی طور پر ایک اہم بحری گیٹ وے رہا ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت وسطی ایشیا کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کمرشل شپ ریپئر کی سہولیات ترقی دینے سے بحری جہازوں کو صرف کارگو آپریشنز کے بجائے دیگر خدمات کے لیے بھی پاکستان میں روکنے کی ترغیب مل سکتی ہے، جبکہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے سے شپ ری سائیکلنگ کے شعبے کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ بحری تجارت قومی معیشت کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ توانائی کی ترسیل، درآمدات و برآمدات، صنعتی پیداوار اور علاقائی رابطے کا انحصار موثر بحری و لاجسٹکس نظام پر ہے۔ انہوں نے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے پیش نظر روایتی بندرگاہی سکیورٹی سے آگے بڑھ کر جامع قومی بحری لچک کا تصور اپنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری، ٹیکنالوجی، گورننس، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے ذریعے جغرافیائی فائدے کو قومی معاشی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ تینوں بندرگاہوں کو ایک دوسرے سے مسابقت کے بجائے ایک دوسرے کی تکمیل کرنی چاہیے اور تین بندرگاہیں، ایک نظام کے تصور پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔








