اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں روزانہ سفر کرنے والے شہریوں، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان نے وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف سکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کو مہنگی ایندھن کی قیمتوں کے تناظر میں ضروری معاونت قرار دیا ہے۔پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ اور …
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کا وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف سکیم کا خیرمقدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں روزانہ سفر کرنے والے شہریوں، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان نے وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف سکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کو مہنگی ایندھن کی قیمتوں کے تناظر میں ضروری معاونت قرار دیا ہے۔پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرول کی قیمت 375.82 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے بعد یہ ریلیف اقدام متعارف کرایا گیا۔
سکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور دیگر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جائے گی جس سے زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کو ماہانہ 30 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جائے گی جس سے انہیں 3 ہزار روپے تک کا ریلیف ملے گا۔سکیم کے تحت اہل موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین اپنی ضرورت کے مطابق ایندھن خرید سکتے ہیں۔ ہر اہل دو اور تین پہیوں والی گاڑی کے صارف کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جائیں گےجن میں سے ہر ٹوکن 500 روپے کے ریلیف پر مشتمل ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر دو لیٹر پیٹرول کی قیمت 780 روپے ہو تو 500 روپے کے ریلیف ٹوکن کے استعمال کے بعد مستحق صارف کو 280 روپے ادا کرنا ہوں گے۔رجسٹریشن کے لیے خصوصی نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ عوامی آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
دائرہ کار مزید بڑھاتے ہوئے یکم جنوری 2006 سے رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو بھی سکیم میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہےجس سے اس سے قبل مقررہ 2011 کی کٹ آف تاریخ میں توسیع ہوگئی ہے۔800 سی سی گاڑی یا دو اور تین پہیوں والی گاڑی رکھنے والے تمام افراد کے لیے ایس ایم ایس سروس مفت کردی گئی ہے۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے پٹرول پمپس پرموجود شہریوں نے بھی اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ روات سے اسلام آباد روزانہ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے محمد سلیم نے کہا کہ سبسڈی سے ان کے ماہانہ ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ روزگار کے سلسلے میں روزانہ تقریباً 60 کلومیٹر سفر کرتے ہیں اور ان کے ماہانہ ایندھن کے اخراجات 9 ہزار روپے سے تجاوز کرچکے تھے تاہم 2 ہزار روپے کا ریلیف گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مددگار ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان ہے اور درخواست گزار اپنے نام پر رجسٹرڈ سم سے 9771 پر رجسٹریشن ،گاڑی نمبر، پروینشل کوڈ ،رجسٹریشن تاریخ کے فارمیٹ میں ایس ایم ایس بھیج سکتے ہیں۔پیر ودھائی سے تعلق رکھنے والے رکشہ ڈرائیور وحید خان نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست اثرٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کی آمدن پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا روزگار پیٹرول پرمنحصر ہے اور قیمتیں بڑھنے سےمسافروں کو بھی کرایوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ ریلیف کرایوں کو برقرار رکھنے اور خاندانوں کی کفالت میں مدد دے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سکیموں کےبرعکس موجودہ رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی چنگ چی رجسٹر کرائی اور بعد ازاں ٹوکن موصول ہوا، نظام سادہ اور سہل ہے،چھوٹی گاڑیوں کے مالکان نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ 660 سی سی گاڑی چلانے والی سکول ٹیچر عائشہ خان نے کہا کہ یہ ریلیف تنخواہ دار خاندانوں بالخصوص روزانہ سفر اور بچوں کو سکول چھوڑنے اور لانے کے لیے چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کے لیے مفید ہوگا۔بعض شہریوں نے سبسڈی کو حقیقی مستحقین تک پہنچانے اور پٹرول پمپس پر شفاف طریقے سے اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔راولپنڈی کے ایک مسافر بلال احمد نے کہا کہ پٹرول پمپس اور عوامی مقامات پر آگاہی مہم سے لوگوں کو رجسٹریشن کے طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایس کے طریقہ کار سے متعلق بینرز بالخصوص کم آمدنی والے کارکنوں اور آن لائن طریقہ کار سے ناواقف افراد کے لیے بہت مفید ہیں۔حکومت نے اہل شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہدفی پیٹرول ریلیف پیکیج سے فائدہ اٹھانے کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق رجسٹریشن مکمل کریں اور سہولت سے استفادہ کریں۔








