وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے پانچ دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی اور اپنے محدود وسائل میں انہیں حصہ دار بنایا، جبکہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید رکھی گئی تھی کہ پاکستان کی سرحد محفوظ ہوگی اور ہمسائے امن سے رہیں گے۔
پاکستان نے پانچ دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی اور اپنے محدود وسائل میں انہیں حصہ دار بنایا، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

مزید خبریں
اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے پانچ دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی اور اپنے محدود وسائل میں انہیں حصہ دار بنایا، جبکہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید رکھی گئی تھی کہ پاکستان کی سرحد محفوظ ہوگی اور ہمسائے امن سے رہیں گے۔
اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر افغان طلبہ کےحق میں سرگرم طلبہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مساجد، سکولوں، بازاروں اور فوج پر حملے کرنے والے دہشت گردوں میں 70 سے 80 فیصد افغانی ہوتے ہیں جبکہ وہ پاکستان کے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبا کی جانب سے افغان طلبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے سیاسی رجحانات کا مظہر ہے۔ جب پانچ دہائیوں کی پناہ، دنیا بھر کی گالیاں اور وسائل پر پرورش بھی ان کے ذہنی رجحانات تبدیل نہیں کر سکے تو ان کے حمایتیوں کو خیر سگالی کے لیے کسی افغان درسگاہ میں تعلیم کی کوشش کرنی چاہیے۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستانی طلبا ان شہداء کے خون کی توہین کر رہے ہیں جو افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کی محبت میں اتنا آگے نہ جائیں کہ پاکستانی خون آپ کو سستا لگنے لگے۔







