دیرپا امن مذاکرات، سفارت کاری ، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ منشور کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے،صدر آصف زرداری کا عالمی یوم امن پر پیغام

دیرپا امن مذاکرات، سفارت کاری ، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ منشور کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے،صدر آصف زرداری کا عالمی یوم امن پر پیغام

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ منشور کی پاسداری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور تنازعات کے پرامن ذرائع سے منصفانہ اور پائیدار حل کو فروغ دے کر اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ پائیدار امن صرف مذاکرات، سفارت کاری، انصاف اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مکمل پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عدم عملدرآمد کے حامل غیر ملکی تسلط کے حالات میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے یہ بات عالمی یوم امن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 21 ستمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ امن کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پائیدار امن صرف مذاکرات، سفارت کاری، انصاف اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مکمل احترام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع”امن میں سرمایہ کاری: ہر ایک کے لیے، ہر جگہ، ہر دن”، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن کے لیے ہر سطح پر مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر مبنی مضبوط، مؤثر اور جامع کثیرالجہتی نظام کے لیے اپنے پختہ عزم پر کاربند ہے۔ ہم تنازعات کے پرامن تصفیہ اور مذاکرات، سفارت کاری اور اجتماعی اقدام کی بنیاد پر تنازعات کی روک تھام اور حل کے لیے جامع نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے پاکستانی امن دستوں نے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے مشنز میں خدمات انجام دی ہیں، شہریوں کے تحفظ، تنازعات سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کرنے اور ایسے حالات پیدا کرنے میں معاونت کی ہے جہاں امن کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔ اکثر مشکل اور خطرناک حالات میں ،ان کی خدمات بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہم ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اقوام متحدہ کے قیام امن اور استحکام کی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم رہے۔صدر مملکت نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازعہ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے حل کی راہ ہموار کی۔

بعد ازاں برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات نے اس یادداشت پر عملدرآمد پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کوشش کو آگے بڑھایا۔ پاکستان بات چیت کو جاری رکھنے اور خطے کے عوام اور وسیع تر دنیا کے لیے پائیدار امن کے حصول کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کردہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا ،تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے سلامتی کونسل کے عزم کا ایک اہم اعادہ تھا۔انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ جہاں عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار کیا جائے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہو، وہاں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔

اس میں غیرملکی تسلط کے حالات بھی شامل ہیں جن میں بھارتی غیرقانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر اور مقبوضہ فلسطینی علاقے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یومِ امن کے موقع پر پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور تنازعات کے پرامن ذرائع سے منصفانہ اور پائیدار حل کو فروغ دے کر اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ صدر نے کہا کہ ہم مغربی ایشیا اور اس سے آگے کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل حمایت کے متقاضی ہیں۔پاکستان اس اجتماعی کاوش میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے زیادہ پرامن اور خوشحال دنیا کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔