معاشی استحکام کو بلند اور پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنا حکومت کی ترجیح ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ اڑھائی برس کے دوران حکومت نے معاشی اعتماد کی بحالی اور معیشت کی بنیادیں مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ اڑھائی برس کے دوران حکومت نے معاشی اعتماد کی بحالی اور معیشت کی بنیادیں مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے، معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے جبکہ اب معاشی استحکام کو بلند اور پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجرا ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی، موجودہ مہنگائی کا تعلق صرف حکومت سے نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں کا استحکام براہ راست عوام کے گھریلو بجٹ اور قوت خرید کو متاثر کرتا ہے، حکومت ضروری اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ جولائی اور اگست 2026 میں اوسط افراط زر 10.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، اگست میں ماہانہ افراط زر 11.1 فیصد رہا جبکہ جولائی میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی۔ اگست میں اشیائے خورونوش اور غیر الکوحل مشروبات کی قیمتوں میں 13.9 فیصد جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 20.2 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاسوں کے ذریعے قیمتوں میں اضافے کے دباؤ سے نمٹنے کے لئے ہدفی اقدامات کئے جا رہے ہیں، ضروری اشیاء کی قیمتوں میں تھوک اور پرچون کے درمیان بلاجواز فرق ختم کرنے اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایل پی جی کی مقررہ اور مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے درمیان فرق کا بھی نوٹس لیا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ قیمتوں اور مہنگائی کی نگرانی حکومت کی مسلسل ترجیحات میں شامل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے صنعتی شعبے میں پیداوار کی رفتار میں بہتری آ رہی ہے، جولائی 2026 میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد جبکہ جون کے مقابلے میں 9.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آٹو موبائلز کی پیداوار میں 57.01 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات میں 40.22 فیصد، تمباکو میں 35.82 فیصد، ملبوسات میں 22.03 فیصد، برقی آلات میں 7.88 فیصد اور نان میٹالک منرل مصنوعات میں 4.25 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ صنعتی پیداوار میں بہتری پاکستان کے صنعتی بنیاد کے مضبوط ہونے کی علامت ہے، روایتی برآمدی شعبوں کی بحالی اور انہیں مزید مسابقتی بنانا ضروری ہے۔احسن اقبال نے بتایا کہ جولائی اور اگست 2026 میں پاکستان کی اشیاء کی برآمدات 5.4 ارب ڈالر جبکہ اشیاء اور خدمات کی مجموعی برآمدات 7.3 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 6.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ہیں۔

غذائی اشیاء کی برآمدات میں 9.3 فیصد، پٹرولیم مصنوعات میں 42 فیصد اور چمڑے کی مصنوعات میں 12.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 3 فیصد اور سرجیکل مصنوعات میں 10.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خدمات کی برآمدات میں 29 فیصد اضافہ پاکستان کی معیشت میں نئے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ جولائی اور اگست میں آئی سی ٹی برآمدات 811 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 691 ملین ڈالر تھیں۔ پاکستان کی برآمدات بتدریج روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات میں بہتری کے باوجود جولائی اور اگست 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 543 ملین ڈالر رہا تاہم گزشتہ سال کے 853 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 310 ملین ڈالر یعنی 36 فیصد بہتری آئی۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ترسیلات زر 7.3 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 6.4 ارب ڈالر تھیں۔ سعودی عرب سے 873 ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 750 ملین ڈالر، برطانیہ سے 564 ملین ڈالر جبکہ امریکا سے 309 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ رواں مالی سال کے آغاز پر پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار میں بھی بہتری آئی ہے۔ اگست 2026 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 77 فیصد اضافے کے ساتھ 316 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ جولائی میں نیٹ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 179 ملین ڈالر تھی۔ جولائی اور اگست میں مجموعی نیٹ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 494 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 399 ملین ڈالر کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اب معاشی استحکام کو بلند اور پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ برآمدات کی بنیاد کو وسیع کرنا، مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن بڑھانا، ٹیکنالوجی اور خدمات کی برآمدات کو فروغ دینا اور نجی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت سرمایہ کاری کے فروغ اور وسیع تر ترقیاتی ایجنڈے کے ذریعے ملک کو پائیدار اور جامع معاشی ترقی کی سمت لے جایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو زیادہ پیداواری اور برآمدات پر مبنی معیشت بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنی عالمی کامیابیوں کو داخلی قوت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ معاشی اشاریوں کو مزید بہتر بنانا ہے یا سڑکوں پر انتشار پیدا کرکے سرمایہ کاروں کو دوبارہ بھگانا ہے، انتشار سے معاشی ترقی کا سفر متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں وہ دشمنوں کے آلہ کار تو نہیں بن رہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے مقدمات قومی اسمبلی اور عدالتوں میں لڑے اور کبھی پاکستان کے خلاف کوئی سازش نہیں کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سیاسی نہیں بلکہ کرپشن کے مقدمات ہیں اور پی ٹی آئی کے ارکان و کارکنوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بانی سے کرپشن سے متعلق سوال کریں۔انہوں نے کہا کہ ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ شفاف، شواہد پر مبنی اور جوابدہ طرز حکمرانی کے عزم کا مظہر ہے۔ ترقیاتی منصوبوں اور معاشی پیش رفت کی مؤثر نگرانی کے لئے شفافیت اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی ضروری ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے حاصل ہونے والی پیش رفت پاکستان کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور عوام کے لئے نئے مواقع کی جانب لے جا رہی ہے، معاشی ترقی کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔