وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا غذائی تحفظ اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مربوط اقدامات پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا غذائی تحفظ اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مربوط اقدامات پر زور

روم ۔21ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ون ہیلتھ پاکستان کے غذائی تحفظ، لائیو سٹاک کی پیداوار، دیہی آبادی کے روزگار اور پائیدار زراعت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر کیے جانے والے وعدوں کو قومی سطح پر موثر عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہو گا جس کے لیے متعلقہ شعبوں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور بہتر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس برائے ون ہیلتھ ان ایگری فوڈ سسٹمزکانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیر کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان صحت مند اور زیادہ مضبوط لائیو سٹاک اور غذائی پیداواری نظام کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے۔

انہوں نے بیماریوں کی روک تھام، حیاتیاتی تحفظ کے موثر انتظامات، جراثیم کش ادویات کے ذمہ دارانہ استعمال اور ویٹرنری خدمات کو مضبوط بنانے کو جانوروں اور انسانی صحت کے تحفظ اور زرعی پیداوار کے تسلسل کے لیے ضروری قرار دیا۔چراگاہوں اور خانہ بدوش مویشی پالنے والی برادریوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ برادریاں پاکستان کی لائیو سٹاک معیشت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں اور انہیں مزید سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں کی صحت کی خدمات، پانی، چارے اور منڈیوں تک بہتر رسائی سے ان برادریوں کے روزگار کو مستحکم بنانے کے ساتھ چراگاہوں کے پائیدار انتظام میں بھی مدد ملے گی۔ خوراک کے تحفظ کے حوالہ سے وفاقی وزیر نے کہا کہ کھیت سے صارف تک خوراک کی پوری زنجیر کے ہر مرحلے پر معیار اور تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے غذائی امراض اور جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ون ہیلتھ کے مربوط فریم ورک کے تحت ادویات کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا۔

رانا تنویر حسین نے لائیو سٹاک کی پیداوار اور گھریلو غذائیت میں خواتین کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی خواتین کو علم، خدمات، ٹیکنالوجی، مالی وسائل اور منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے روزگار کو مستحکم بنانے اور ون ہیلتھ کے مقاصد کے حصول میں مدد مل سکے۔وفاقی وزیر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انسانی صحت کا تحفظ جانوروں، پودوں اور ماحول کی صحت پر توجہ دیے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور محفوظ، مضبوط اور پائیدار زرعی و غذائی نظام کی تشکیل کے لیے متعلقہ شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ روم میں منعقدہ ایف اے او کی یہ کانفرنس زرعی و غذائی نظام میں ون ہیلتھ کے فروغ کے لیے مکالمے اور عملی اقدامات کا عالمی پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے جہاں موثر حل اور باہمی تعاون کو آگے بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین روم میں 21 سے 23 ستمبر 2026ء تک منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی عالمی کانفرنس برائے ون ہیلتھ اِن ایگری فوڈ سسٹمز میں شرکت کر رہے ہیں۔کانفرنس میں زرعی و غذائی نظام میں ون ہیلتھ کے تصور کو عملی اقدامات میں ڈھالنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر بین الاقوامی شرکا جانوروں اور پودوں کی بیماریوں، خوراک کے تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور صحت عامہ سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں