سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک بھر میں پالیسی ہولڈرز کی شکایات کے مؤثر اور فوری ازالے کے لئے انشورنس ٹربیونلز اور چھوٹے تنازعات کے حل کی کمیٹیوں (ایس ڈی آر سیز) کی تعداد بڑھانے اور ایک مربوط ڈیجیٹل شکایتی نظام قائم کرنے کی سفارش کی ہے
ایس ای سی پی کی انشورنس صارفین کی شکایات کے مؤثر ازالے کے لئے اہم تجاویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک بھر میں پالیسی ہولڈرز کی شکایات کے مؤثر اور فوری ازالے کے لئے انشورنس ٹربیونلز اور چھوٹے تنازعات کے حل کی کمیٹیوں (ایس ڈی آر سیز) کی تعداد بڑھانے اور ایک مربوط ڈیجیٹل شکایتی نظام قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔یہ سفارشات ایس ای سی پی کی رپورٹ ’’پاکستان میں انشورنس شکایات کے ازالے کے نظام کا استحکام: موجودہ صورتحال اور ڈیجیٹل حل‘‘ میں پیش کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں پالیسی ہولڈرز کے لئے دستیاب موجودہ شکایتی فورمز کا جائزہ لیا گیا ہے جنہیں 2025 میں مجموعی طور پر 37,029 شکایات موصول ہوئیں۔ایس ای سی پی نے وزارتِ قانون و انصاف سے سفارش کی ہے کہ جغرافیائی ضروریات کے مطابق انشورنس ٹربیونلز کی تعداد بڑھائی جائے، انشورنس ٹربیونلز کے طور پر نامزد سیشن عدالتوں کی فہرست جاری کی جائے اور ٹربیونلز کے ارکان کی بروقت تعیناتی یقینی بنائی جائے۔رپورٹ میں چھوٹے تنازعات کے حل کی کمیٹیوں کے دائرۂ کار اور جغرافیائی رسائی کو بڑھانے، شکایات کی سماعت کے لئے مقررہ مالی حدود کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے اور آن لائن شکایات اور دستاویزات جمع کرانے کی سہولت فراہم کرکے طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔بہتر رابطہ کاری کے لئے ایس ای سی پی، وفاقی انشورنس محتسب، وفاقی محتسب، انشورنس ٹربیونلز، چھوٹے تنازعات کے حل کی کمیٹیوں اور انشورنس کمپنیوں کے مابین معلومات کے تبادلے اور شکایات کے اعداد و شمار یکجا کرنے کے لئے باضابطہ نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔رپورٹ میں شکایات کی تعداد، ازالے کی شرح، فیصلوں میں لگنے والے وقت اور ابھرتے ہوئے رجحانات کو انشورنس انڈسٹری اسٹیٹسٹکس رپورٹ میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ اعداد و شمار پر مبنی ریگولیٹری نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اختیارات کے دائرہ کار میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لئے سرکاری شعبے کی انشورنس کمپنیوں سے متعلق شکایات وفاقی انشورنس محتسب کو منتقل کرنے کی غرض سے قانونی اور انتظامی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔رپورٹ میں انشورنس انڈسٹری میں شکایات سے نمٹنے کے یکساں اور مؤثر طریقوں کے فروغ کے لئے انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے کردار کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد انشورنس شکایات کے ازالے سے منسلک اداروں اور فورمز کے مابین بہتر رابطہ کاری اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے شکایات کے ازالے میں لگنے والا وقت کم کرنا، کمپنیوں کی جواب دہی بہتر بنانا اور ہر پالیسی ہولڈر کو شکایات کے مؤثر ازالے کے لئے مناسب فورم تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔








