نوشکی میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ ،وزیر اعلیٰ بلوچستان نےمحکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ داخلہ بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی

کوئٹہ۔ 22 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ داخلہ بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی ۔ وزیر اعلیٰ نے بیان میں کہا کہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ شہید پولیس اہلکاروں نے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے محرکات اور اس میں ملوث عناصر کا تعین کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ متعلقہ ادارے واقعے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم بچوں کو خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے کی قومی کاوش ہے، اس مہم سے وابستہ ٹیموں کی حفاظت انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

مزید خبریں