افغانستان میں سیکیورٹی بحران سنگین رخ اختیار کر گیا ہے جہاں احمد مسعود، جنرل یاسین ضیاء اور جنرل سمیع سادات کی قیادت میں طالبان مخالف مزاحمتی تحریکوں کی کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ تاجک سرحد سے متصل صوبہ بدخشاں میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں نے طالبان کے امن اور مکمل گرفت کے بیانیے پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔
افغانستان میں سکیورٹی بحران شدت اختیار کر گیا، یو این رپورٹ نے طالبان کے دعوؤں کی قلعی کھول دی

مزید خبریں
کابل۔23ستمبر (اے پی پی):افغانستان میں سیکیورٹی بحران سنگین رخ اختیار کر گیا ہے جہاں احمد مسعود، جنرل یاسین ضیاء اور جنرل سمیع سادات کی قیادت میں طالبان مخالف مزاحمتی تحریکوں کی کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ تاجک سرحد سے متصل صوبہ بدخشاں میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں نے طالبان کے امن اور مکمل گرفت کے بیانیے پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔

معروف افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے محض اگست کے مہینے میں طالبان رجیم کے خلاف کم از کم 50 مزاحمتی کارروائیاں کیں۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی سے جولائی کے دوران ملک بھر میں 2,947 سیکیورٹی واقعات رپورٹ ہوئے، جو پچھلے سال کی نسبت 11 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ 14 مسلح گروہوں نے 21 صوبوں میں 88 بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
وسطی ایشیائی جریدے دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا کے مطابق سرحد پار بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر تاجکستان اور اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم نے ’’روبیژ 2026‘‘ مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد کیا ہے۔







