پاکستان میں پی ایس ڈی پی زیتون منصوبے کے تحت زیتون کی کاشت کا دائرہ 60 اضلاع تک پھیل گیا ہے اور 12 ہزار کسان اس سے منسلک ہو چکے ہیں ، ملک میں کاشت، پراسیسنگ، معیار کی نگرانی اور ویلیو ایڈیشن پر مشتمل کھیت سے صارف تک مکمل ویلیو چین کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں زیتون کی کاشت 60 اضلاع تک پھیل گئی، 12 ہزار کسان منسلک

مزید خبریں
اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں پی ایس ڈی پی زیتون منصوبے کے تحت زیتون کی کاشت کا دائرہ 60 اضلاع تک پھیل گیا ہے اور 12 ہزار کسان اس سے منسلک ہو چکے ہیں ، ملک میں کاشت، پراسیسنگ، معیار کی نگرانی اور ویلیو ایڈیشن پر مشتمل کھیت سے صارف تک مکمل ویلیو چین کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی، صوبائی اور بین الاقوامی ترقیاتی پروگراموں کے تحت ملک بھر میں تقریباً 60,400 ایکڑ رقبے پر 75 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں،ان میں سے 66 فیصد یعنی 50 لاکھ درخت پی ایس ڈی پی زیتون منصوبے کے تحت لگائے گئے ہیں جو 60 اضلاع پر محیط ہے اور اس سے 12 ہزار زیتون کے کاشتکار منسلک ہیں۔پانی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے مزید 6,594 ایکڑ پر زیتون کے باغات کو پانی کی بچت کے آبپاشی نظام سے آراستہ کیا گیا ہے۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لیے 40 لاکھ ہیکٹر سے زائد ممکنہ رقبہ موجود ہے جبکہ ملک میں جنگلی زیتون کے لاکھوں درخت بھی پائے جاتے ہیں۔
مختلف علاقوں میں زیتون کی کاشت کے مخصوص کلسٹرز قائم کیے گئے ہیں اور کاشت کے لیے زیتون کی 22 اقسام کی منظوری دی گئی ہے۔ابتدائی طور پر پاکستان زیتون کے پودوں کے لیے بحیرہ روم کے ممالک سے درآمدات پر انحصار کرتا تھا، تاہم 2022 سے ملک نے مقامی سطح پر پودوں کی افزائش شروع کر دی ہے جس سے سرکاری و نجی شراکت داری اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے زرمبادلہ کی بچت میں مدد مل رہی ہے۔زیتون کی کاشت میں توسیع کے ساتھ پراسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر زیتون کا تیل نکالنے کے 51 یونٹس نصب کیے گئے ہیں،ان میں سے 15 یونٹس پی ایس ڈی پی منصوبے کے تحت قائم کیے گئے جبکہ دیگر سہولیات کو صوبائی حکومتوں، عالمی بینک، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ، ٹیکا اور دیگر اداروں کی معاونت حاصل رہی۔
معاون بنیادی ڈھانچے میں پھلوں کی پراسیسنگ کے چھ یونٹس، فصل کی کٹائی سے پہلے اور بعد کے استعمال کی 500 کٹس، نرسری کے 14 سرنگ نما ڈھانچے، پانچ موسمیاتی سٹیشن اور زیتون کے تیل کے معیار کے تجزیے کے لیے آلات سے لیس چار لیبارٹریاں شامل ہیں، افرادی قوت کی ترقی بھی اس منصوبے کا اہم حصہ رہی ہے۔ باغات اور نرسریوں کے انتظام، فصل کے بعد کی دیکھ بھال، اچھے زرعی طریقوں، بہتر پیداواری طریقوں، تیل نکالنے اور ویلیو ایڈیشن سے متعلق مجموعی طور پر 276 استعداد کار بڑھانے کے پروگرام منعقد کیے گئے جن سے ملک بھر میں 17,986 متعلقہ افراد مستفید ہوئے۔دستاویزات کے مطابق زیتون کی ویلیو چین کے مختلف پہلوؤں پر 36 سے زائد مطبوعات تیار کی گئی ہیں جبکہ متعلقہ فریقوں تک معلومات پہنچانے اور آگاہی بڑھانے کے لیے منصوبے کی مخصوص ویب سائٹس، تعلیمی یوٹیوب چینلز اور ایک انٹرایکٹو ڈیش بورڈ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
زیتون کے شعبے میں کاروباری سرگرمیوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری میں بھی اضافہ ہوا ہے، اب 100 سے زائد کاروباری افراد اپنے برانڈز کے تحت زیتون کے تیل ، اچار، جام، کاسمیٹکس، صابن اور غذائی و طبی مصنوعات سمیت دیگر ویلیو ایڈڈ اشیا تیار کر رہے ہیں۔مستقبل میں برآمدات کے فروغ کے لیے معیار برقرار رکھنا بھی اس اقدام کا اہم محور ہے۔ پاکستان کو ایوارڈ یافتہ ’’ایل او-لورالائی اولیوز‘‘ کے ذریعے معیار کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی بھی مل چکی ہے۔دستاویزات کے مطابق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی قیادت میں ایک دہائی پر محیط قومی زیتون کاشت پروگرام نے بنجر زمینوں کو پیداواری باغات میں تبدیل کرنے میں مدد دی جبکہ زیتون کے زیادہ پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نظام کو فروغ دیا گیا ہے۔
دستاویزات میں دیے گئے ایف اے او کے اعدادوشمار حوصلہ افزا رجحان ظاہر کرتے ہیں جن کے مطابق زیتون کے تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی آئی جبکہ اسی عرصے میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔اقتصادی تخمینے کے مطابق 33,000 ایکڑ پر محیط منصوبے کی تکمیل کے 10 سال بعد زیتون کا شعبہ قومی معیشت میں سالانہ 7.6 ارب روپے کا حصہ ڈالے گا جبکہ معیار اور کھیت سے صارف تک مربوط طریقہ کار برقرار رکھنے کی صورت میں اس کے فوائد ایک صدی سے زائد عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔دستاویزات میں کاربن جذب کرنے کی صلاحیت، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک اور عوامی صحت میں بہتری بشمول مستقبل میں صحت کے اخراجات میں ممکنہ کمی کو بھی زیتون کے شعبے کی ترقی کے وسیع تر فوائد میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کو انٹرنیشنل اولیو کونسل میں مستقل حیثیت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ زیتون سے متعلق قومی پالیسی اور ایکشن پلان بھی تشکیل دیا گیا ، زیتون پالیسی کی وفاقی کابینہ منظوری دے چکی اور وزیراعظم نے اس کا باضابطہ اجرا بھی کر دیا ہے۔یہ پالیسی زیتون کی صنعت کی پائیدار ترقی اور ضابطہ کاری کے لیے فریم ورک فراہم کرتی ہے جس میں زرعی پیداوار بڑھانے، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔








