آئی پی او پاکستان میں املاک دانش ، ٹیکنالوجی منتقلی اور جامعات و صنعت کے روابط کے موضوع پر راؤنڈ ٹیبل اجلاس

املاک دانش کے تحفظ، ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن، ٹیکنالوجی منتقلی اور جامعات و صنعت کے درمیان مؤثر روابط کے فروغ کے لیے ’’ املاک دانش ، ٹیکنالوجی منتقلی اور جامعات و صنعت کے روابط‘‘ کے موضوع پر ایک اہم راؤنڈ ٹیبل آئی پی او پاکستان، اسلام آباد کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):املاک دانش کے تحفظ، ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن، ٹیکنالوجی منتقلی اور جامعات و صنعت کے درمیان مؤثر روابط کے فروغ کے لیے ’’ املاک دانش ، ٹیکنالوجی منتقلی اور جامعات و صنعت کے روابط‘‘ کے موضوع پر ایک اہم راؤنڈ ٹیبل آئی پی او پاکستان، اسلام آباد کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد وائی ای ایس پاکستان نے انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان (آئی پی او پاکستان) اور ایچ ای سی ٹاسک فورس آن او آر آئی سیز اینڈ بی آئی سیز کے اشتراک سے کیا۔ اجلاس کی نظامت محمد مرتضیٰ نور، نیشنل کوآرڈینیٹر، انٹر یونیورسٹی کنسورشیم نے کی۔ پروفیسر ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمٰن، چیئرمین آئی پی او پاکستان نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے آئی پی او پاکستان کے بنیادی فرائض، کردار اور دائرۂ کار پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے علمی تحقیق اور اختراعات کے تحفظ، ان کی کمرشلائزیشن اور ٹیکنالوجی منتقلی کے لیے آئی پی او پاکستان اور جامعات کے درمیان قریبی اور مؤثر روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر جاوید لغاری، کنوینر، ایچ ای سی ٹاسک فورسز برائے او آر آئی سیز اور بی آئی سیز نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق کو تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور اختراعات میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر اور مضبوط ادارہ جاتی نظام وضع کیا جائے۔

انہوں نے جامعات، صنعت اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان روابط اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔راؤنڈ ٹیبل میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل، چیئرمین، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن؛ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان، وائس چانسلر، ہیلتھ سروسز اکیڈمی؛ ڈاکٹر عبدالباسط، صدر، پریسٹن یونیورسٹی و اے پی ایس یو پی فیڈرل چیپٹر؛ ڈاکٹر محمد ابوبکر، چیئرمین بورڈ آف گورنرز، یونیورسٹی آف راولپنڈی کے علاوہ اعلیٰ حکام، جامعات کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکانے دانشورانہ املاک کے تحفظ، ٹریڈ مارکس، جامعات میں ہونے والی تحقیق کی کمرشلائزیشن، ٹیکنالوجی منتقلی اور جامعات و صنعت کے روابط کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ دانشورانہ املاک کا تحفظ اور تحقیقی نتائج کی کمرشلائزیشن جامعات کے تحقیقی و اختراعی نظام کا لازمی جزو ہونی چاہیے۔

گفتگو کے دوران پاکستان میں دانشورانہ املاک اور اختراعات کے ماحولیاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد عملی تجاویز پیش کی گئیں۔ شرکا نے پیٹنٹ درخواستوں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی معاونت فراہم کرنے، آئی پی او پاکستان، ایچ ای سی، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور جامعات کے درمیان مؤثر ادارہ جاتی رابطہ کاری کو فروغ دینے اور پیٹنٹ درخواستوں کی تیاری اور فائلنگ کے اخراجات کے لیے خصوصی فنڈنگ اسکیم متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکاء نے او آر آئی سیز اور بی آئی سیز کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے مشترکہ ماسٹر ٹرینرز تربیتی پروگرامز شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی، تاکہ ان اداروں کے افسران اور متعلقہ اہلکاروں کو دانشورانہ املاک کے انتظام، ٹیکنالوجی منتقلی اور تحقیق کی کمرشلائزیشن کے حوالے سے جدید مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

شرکا نے مزید تجویز دی کہ پیٹنٹس، دانشورانہ املاک کی تخلیق اور تحقیقی نتائج کی کامیاب کمرشلائزیشن کو فیکلٹی ممبران اور محققین کی ترقی کے معیار میں مناسب طور پر شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعات کے کیمپسز میں باقاعدگی سے دانشورانہ املاک سے متعلق آگاہی سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور استعدادِ کار میں اضافے کی سرگرمیاں منعقد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ اساتذہ، محققین اور طلبہ میں دانشورانہ املاک کے تحفظ، رجسٹریشن اور کمرشلائزیشن کا مؤثر کلچر فروغ پا سکے۔ شرکا نے آئندہ منعقد ہونے والے وائی ای ایس پاکستان ۔ ینگ انٹرپرینیورز، سی ای اوز اینڈ انوویٹرز سمٹ، ایکسپو اینڈ ایوارڈز 2026ء کے لیے اپنے بھرپور تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔ یہ اہم ایونٹ 20 تا 22 اکتوبر 2026ء کو بحریہ یونیورسٹی، اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

 

مزید خبریں