موسمیاتی تبدیلیوں سے موثراندازمیں نمٹنے کیلئے ملکی وسائل کو متحرک کرنا اور مالیاتی گنجائش کو مستحکم رکھنا ناگزیر ہے، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا نیویارک میں خطاب

وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے موثراندازمیں نمٹنے کیلئے بیرونی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کو متحرک کرنا اور مالیاتی گنجائش کو مستحکم رکھنا بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالمی اقتصادی فورم کے فنانسنگ پلینٹ اینڈ پراسپیریٹی اجلاس میں میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے موثراندازمیں نمٹنے کیلئے بیرونی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کو متحرک کرنا اور مالیاتی گنجائش کو مستحکم رکھنا بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالمی اقتصادی فورم کے فنانسنگ پلینٹ اینڈ پراسپیریٹی اجلاس میں میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیرِ خزانہ نے پاکستان کو درپیش موسمیاتی خطرات اور آفات سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات پر اظہارِ خیال کیا اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش شدید خطرات، بالخصوص سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات پرروشنی ڈالی۔ وزیرِ خزانہ نے آفات سے نمٹنے کے نظام، قبل از وقت انتباہ کے نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو مزید موثر بنانے کے لئے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے زور دیا کہ بیرونی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کو متحرک کرنا اور مالیاتی گنجائش کو مستحکم رکھنا بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے امداد، موسمیاتی موافقت اور بحالی و تعمیرنو کے لئے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے ذریعے مالی وسائل کے حصول کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں اور عالمی موسمیاتی فنڈز، بشمول گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ پر زور دیا کہ وہ اپنے طریقہ کار کو آسان بنائیں اور موسمیاتی فنانسنگ تک رسائی کو تیز کریں۔