وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی روم میں ایف اے او کی ون ہیلتھ کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزرا سے اعلیٰ سطحی ملاقات

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے روم میں ایف اے او کے زیر اہتمام منعقدہ زرعی و غذائی نظاموں میں ون ہیلتھ کے فروغ کے لیے منعقدہ عالمی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی عبدالعوال منٹو اور وزیر مملکت برائے ماہی گیری و لائیوسٹاک سلطان صلاح الدین ٹوکو سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔

روم ۔23ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے روم میں ایف اے او کے زیر اہتمام منعقدہ زرعی و غذائی نظاموں میں ون ہیلتھ کے فروغ کے لیے منعقدہ عالمی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی عبدالعوال منٹو اور وزیر مملکت برائے ماہی گیری و لائیوسٹاک سلطان صلاح الدین ٹوکو سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ملاقات میں زراعت، لائیو سٹاک، ماہی گیری، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور ون ہیلتھ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کو درپیش مشترکہ چیلنجز اور پائیدار و مستحکم زرعی و غذائی نظاموں کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کے امکانات زیر بحث آئے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش زراعت پر انحصار کرنے والے ممالک ہیں اور موسمیاتی تبدیلی، ابھرتی ہوئی بیماریوں اور ماحولیاتی دبائو جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے شعبوں میں قریبی تعاون سے غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، دیہی آبادی کے روزگار کے تحفظ اور زرعی برادریوں کی موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے زرعی تجارت، تحقیق، جدید زرعی مشینری، لائیوسٹاک کی نسلوں میں بہتری اور استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زرعی و ویٹرنری علوم میں ادارہ جاتی شراکت داری، تکنیکی تبادلوں اور مشترکہ تعاون کے مواقع پر بھی روشنی ڈالی اور باہمی احترام، خودمختار مساوات اور مشترکہ ترقیاتی ترجیحات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔بنگلہ دیش کے وزیر عبدالعوال منٹو نے عالمی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے اور پائیدار زرعی و غذائی نظاموں کے فروغ کے لیے علم، تجربات اور عملی حکمت عملیوں کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کو اجاگر کیا۔بنگلہ دیش کے وزیر مملکت سلطان صلاح الدین ٹوکو نے غذائی تحفظ، غذائیت اور دیہی روزگار کے فروغ میں ماہی گیری اور لائیوسٹاک کے شعبوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے لائیوسٹاک کی ترقی، بہتر پیداواری نظام، بیماریوں کی روک تھام، تحقیق اور تکنیکی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش مہارتوں کے تبادلے اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنا کر باہمی طور پر مستفید ہو سکتے ہیں۔

ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے لائیوسٹاک نظام، بہتر چارہ و خوراک کی فراہمی، بیماریوں کی نگرانی، جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت، غذائی تحفظ اور زرعی و لائیوسٹاک مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ دونوں جانب سے اس امر پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا کہ تکنیکی سطح پر مسلسل رابطوں کے ذریعے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی اور مشترکہ اقدامات کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔

رانا تنویر حسین نے بنگلہ دیش کے وزراء کو مزید دوطرفہ مذاکرات اور زراعت، ماہی گیری، لائیوسٹاک اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے زرعی و غذائی نظاموں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ ملاقات کا اختتام دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی استحکام اور عالمی ون ہیلتھ ایجنڈے میں مشترکہ کردار ادا کرنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔