پاکستان میں عالمی بحری قوانین پر عمل درآمد جاری ہے، جنید انوار چوہدری

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان بحری شعبے اور اس سے متعلق آپریشنز میں بین الاقوامی بحری قوانین اور معیارات پر عمل درآمد کر رہا ہے، ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے لیے قانون سازی، نفاذ، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان بحری شعبے اور اس سے متعلق آپریشنز میں بین الاقوامی بحری قوانین اور معیارات پر عمل درآمد کر رہا ہے، ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے لیے قانون سازی، نفاذ، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ 2026 کا موضوع ’’پالیسی سے عمل درآمد تک: بحری شعبے میں بہترین کارکردگی کا فروغ‘‘ بحری پالیسیوں اور بین الاقوامی معیارات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔

جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بحری معیارات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں، ریگولیٹرز، بندرگاہوں، شپنگ کمپنیوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحری شعبے میں تربیت اور تکنیکی تعاون خصوصی اہمیت رکھتے ہیں تاکہ بحری جہازوں پر خدمات انجام دینے والے افراد اور دیگر بحری شعبے کے ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے اور آپریشنل معیارات برقرار رکھے جا سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بحری تعلیم کے فروغ کے لیے میری ٹائم ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس کے لیے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم مختص کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری جاری کرنے والے ادارے کی حیثیت سے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ بحری شعبے میں تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کو جدید بنانے کے لیے 12 ارب روپے کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے جس کے تحت بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ یارڈ کو بین الاقوامی حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بحری آپریشنز میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا بالخصوص سمندری آلودگی پر قابو پانے اور ماحول دوست شپنگ کی جانب منتقلی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی بحالی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے ہفتہ وار صفائی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ میری ٹائم ڈے کا 2026 کا موضوع پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بھی اہم ہے جس میں بنیادی ڈھانچے اور جدت کے ذریعے ہدف 9، موسمیاتی اقدامات کے ذریعے ہدف 13، سمندروں کے تحفظ کے ذریعے ہدف 14 اور عالمی شراکت داری کے ذریعے ہدف 17 کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔

جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ موضوع پاکستان کے لیے بندرگاہی آپریشنز، شپنگ، بحری تحفظ، بحری عملے کی تربیت اور سمندری ماحول کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر نے اپنے طویل المدتی وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مجوزہ ’’میری ٹائم سنچری 2047ء تا 2147ء‘‘ گہرے سمندر کی نئی بندرگاہوں کے قیام، جہاز سازی اور جہازوں کی ری سائیکلنگ کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس بحری صنعتی مراکز کے قیام، پاکستان میں جہازوں کی تیاری، ماحول دوست اور ڈیجیٹل بندرگاہوں کی ترقی اور علاقائی بحری تعاون کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے گا۔

مزید خبریں