پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق بحری سلامتی، تحفظ اور ضابطہ کار کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے،صدرمملکت کا ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر پیغام
پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق بحری سلامتی، تحفظ اور ضابطہ کار کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے،صدرمملکت کا ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق بحری سلامتی، تحفظ اور ضابطہ کار کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے،موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران ہمارے سمندری جہاز رانوں اور بحری عملے نے ایک بار پھر مشکل حالات میں فرائض سے بڑھ کر خدمات انجام دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے، غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے مظاہرے سے بظاہر ناممکن چیلنجز کو ایسے کارناموں میں تبدیل کیا گیا جن پر قوم بجا طور پر فخر کرسکتی ہے۔ یہ بات ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 24 ستمبر کو منایا جا رہا ہے۔
صدر نے اس موقع پر پاکستان کے سمندری جہازرانوں ،بحری شعبے سے متعلق ماہرین، بندر گاہوں کے حکام، شپ آپریٹرز، ریگولیٹرز، تربیتی اداروں اور بحری شعبے کے وابستگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن بحری نقل و حمل کے تحفظ اور مؤثر کارکردگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اس دن کا موضوع’’پالیسی سے عمل درآمد تک: بحری شعبے میں اعلیٰ معیار کا فروغ‘‘ اس امر کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ بین الاقوامی بحری معیارات کو مؤثر قومی قوانین، ضوابط اور روزمرہ عملی اقدامات میں ڈھالا جائے۔ پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق بحری سلامتی، تحفظ اور ضابطہ کار کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان کے سمندری جہازراں اور بحری شعبے سے وابستہ ماہرین اس کوشش کا محور ہیں۔صدرِ مملکت نے کہا کہ ہمیں امر کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہماری افرادی قوت ڈیجیٹل نیوی گیشن، آٹومیشن، نئے ایندھن اور سائبر سکیورٹی سمیت تکنیکی تبدیلیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہو، بحری تعلیم، تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھنا ہوگی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اپنے بحری انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ پورٹ قاسم پر جدید’’ ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم‘‘ کی تنصیب سے بحری راستوں کی سلامتی، جہازوں کی نگرانی، بحری تحفظ اور آپریشنل استعداد کار میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ ہمیں ماحولیاتی تحفظ کو مزید تقویت دینے اور اپنی بندرگاہوں اور بحری افرادی قوت کو ماحول دوست جہاز رانی کی جانب منتقلی کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ مضبوط بحری شعبہ قومی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرتے ہوئے تجارت، روزگار، رابطوں اور سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔ بین الاقوامی معیارات پر مؤثر عملدرآمد، مضبوط ادارے ، جدید انفراسٹرکچر اور ہنرمند بحری ماہرین پاکستان کو اس صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرنے میں مدد دیں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران ہمارے سمندری جہازرانوں اور بحری عملے نے ایک بار پھر مشکل حالات میں فرائض سے بڑھ کر خدمات انجام دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔
انہوں نے غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے بظاہر ناممکن نظر آنے والے چیلنجز کو ایسے کارناموں میں تبدیل کیا جن پر قوم بجا طور پر فخر کرسکتی ہے۔صدرِ مملکت نے اس موقع پر پاکستان کے سمندری جہازرانوں اور بحری شعبے سے وابستہ ماہرین کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی خدمات ہماری معیشت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے تمام متعلقین پر زور دیا کہ وہ بحری پالیسیوں اور معیارات کو مؤثر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے اور تحفظ، کارکردگی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے مل کر کام کرتے رہیں۔







