برآمدات بڑھائے بغیر پائیدار معاشی خودمختاری ممکن نہیں، پاکستان کو 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہوگا۔ ٖوفاقی وزیراحسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار معاشی خودمختاری کا راستہ قرضوں اور درآمدی بنیاد پر شرح نمو سے نہیں بلکہ برآمدات، پیداوار، پالیسی تسلسل اور نجی شعبے کی قیادت سے نکلتا ہے

فیصل آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):ٖوفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار معاشی خودمختاری کا راستہ قرضوں اور درآمدی بنیاد پر شرح نمو سے نہیں بلکہ برآمدات، پیداوار، پالیسی تسلسل اور نجی شعبے کی قیادت سے نکلتا ہے، اس لیے ملک کو 2035 تک برآمدات 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے ہدف کے لیے غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا جبکہ حکومت اور کاروباری برادری کو مل کر دنیا کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ پاکستان ایک قابل اعتماد سپلائر ہے اور یہاں کاروبار میں کوئی غیر ضروری تعطل نہیں ہوگا۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ماضی میں درآمدات اور کھپت پر مبنی شرح نمو کے باعث تجارتی خسارے، زرمبادلہ کے دباؤ اور قرضوں کے چکر کا شکار ہوتا رہا، اس لیے اب معاشی پالیسی کا محور برآمدات میں تیز رفتار اضافہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا’’اڑان پاکستان پروگرام ‘‘ملک کو برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے گزشتہ دور میں چھ فیصد معاشی شرح نمو کا حوالہ دیا جاتا ہے، تاہم اس نمو کی بنیاد زیادہ تر کھپت اور درآمدات پر مبنی تھی جس کے نتیجے میں معیشت کو بیرونی عدم توازن کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے میں ملکی تاریخ کی بلند ترین درآمدات ہوئیں اور تجارتی خسارہ تقریباً 50 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس نے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ جب زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں تو ملکی کرنسی کی قدر بھی متاثر ہوتی ہے، جس کا اثر پاکستان نے روپے کی قدر میں نمایاں کمی کی صورت میں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران حکومت نے معاشی تباہی کو روکنے کے ساتھ استحکام کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے اور اب اگلا مرحلہ معیشت کو تیز رفتار، پائیدار اور برآمدی بنیادوں پر آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے برآمدات میں محض ایک یا دو ارب ڈالر سالانہ اضافہ کافی نہیں ہوگا بلکہ برآمدی آمدن میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھنے کے پرانے طریقہ کار پر چلتا رہا تو مطلوبہ معاشی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا، تاہم غیر معمولی رفتار، قومی اتفاق رائے اور پالیسیوں کے تسلسل کے ذریعے ملک اپنی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل قرض لینے کی ضرورت کم ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس مقصد کے لیے برآمدات میں غیر معمولی وسعت ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی ترقی کی دو بنیادی شکلیں ہوتی ہیں، ایک کھپت پر مبنی اور دوسری پیداوار پر مبنی، لیکن پاکستان کو اب ایسی پیداوار اور برآمدات پر مبنی ترقی اختیار کرنا ہوگی جو ملک کے لیے مستقل زرمبادلہ پیدا کرے۔ ان کے مطابق محض درآمدات بڑھا کر معیشت کے حجم میں عارضی اضافہ کیا جا سکتا ہے، مگر اگر برآمدات ساتھ نہ بڑھیں تو تجارتی خسارہ دوبارہ معاشی استحکام کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو برسوں میں معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے اور اب اس استحکام کو برآمدی نمو میں تبدیل کرنے کا مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والی مثبت سفارتی اور سیاسی پذیرائی کو بھی معاشی و تجارتی فوائد میں تبدیل کرنا ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے عالمی تشخص کو اقتصادی منافع میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کے معیار، برانڈنگ، ویلیو ایڈیشن اور قابل اعتماد سپلائی کو اپنی بنیادی ترجیح بنائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے عالمی برآمدی ماحول میں خریدار کے لیے صرف قیمت یا مصنوعات کا معیار کافی نہیں بلکہ Reliability یعنی قابل اعتماد فراہمی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ اگر ایک غیر ملکی خریدار کو یہ یقین نہ ہو کہ آرڈر وقت پر تیار ہوگا، بندرگاہ تک پہنچے گا اور راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرے گا تو وہ پاکستان کو طویل المدتی سپلائر کے طور پر منتخب نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی برآمدی منڈی میں قیمت اور معیار کے ساتھ ساتھ سب سے اہم عنصر قابل اعتماد سپلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک امریکی درآمد کنندہ سے جب اس کے کاروبار کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ وہ صرف ملبوسات نہیں بلکہ’’ قابل اعتماد سپلائی‘‘ فروخت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول پاکستان کی برآمدی حکمت عملی کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان ایک قابل اعتماد سپلائر ہے جہاں پیداواری اور ترسیلی عمل بلا تعطل جاری رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر پاکستان کی سڑکیں بند ہونے، کنٹینرز کھڑے ہونے اور صنعتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کی تصاویر نشر ہوں گی تو اس سے غیر ملکی خریداروں کا اعتماد متاثر ہوگا اور پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے آرڈرز حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ ملک میں پیداوار اور سرمایہ کاری کے عمل کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ انہوں نے کاروباری برادری سے کہا کہ ملک میں کسی بھی ایسی سرگرمی کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے جو صنعتی پیداوار، فیکٹریوں، ٹرانسپورٹ یا برآمدی سپلائی چین میں خلل پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے عالمی منڈی میں اپنا مقام مستحکم کرنا ہے تو دنیا کو پاکستان کی سڑکوں پر رکاوٹوں اور صنعتی سرگرمیوں میں تعطل کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ چلتی ہوئی صنعت، مسلسل پیداوار اور بروقت برآمدات دکھائی دینی چاہئیں۔ احسن اقبال نے پالیسیوں کے تسلسل کو معاشی ترقی کی بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک چند برسوں میں پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں مختلف ترقیاتی منصوبے اور وژن متعارف کرائے، تاہم پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کے باعث ان کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ انہوں نے زرعی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسان کے پاس بہترین بیج بھی موجود ہو تو صرف بیج اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ پیداوار بھی اسی تناسب سے حاصل ہوگی۔

اس کے لیے موزوں موسم، مناسب زمین، پانی، بہتر زرعی ماحول اور فصل کو مسلسل مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ملک میں اچھی پالیسیاں بنانا کافی نہیں بلکہ ان کے لیے ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے جہاں وہ طویل عرصے تک تسلسل کے ساتھ نافذ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پالیسیوں کے بار بار تبدیل ہونے کے بجائے مستقل مزاجی، اصلاحات اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی تسلسل کا مطلب یہ نہیں کہ ملک تبدیلی سے گریز کرے بلکہ اصلاحات کے ذریعے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق خود کو مسلسل جدید بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے ماضی کے طریقہ کار کے مطابق ہی کام جاری رکھا تو آئندہ بھی وہی نتائج حاصل ہوں گے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سامنے آئے، جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک مزید آگے نکلتے جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ملک اپنی مکمل صلاحیت بروئے کار لانا چاہتا ہے تو حکومت، صنعت، کاروباری برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ایک نئے قومی اقتصادی معاہدے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت حکومت برآمدات، پیداوار، معیار، جدت، برانڈنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو معاشی تبدیلی کے بنیادی ستونوں کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق ملک کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا ہوگا جبکہ ضلعی سطح پر بھی برآمدی صلاحیتوں کی نشاندہی کرکے مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے ہر شہر اور ضلع میں ایسی مصنوعات اور شعبے موجود ہیں جنہیں بہتر معیار، ویلیو ایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی، پیکیجنگ، برانڈنگ اور عالمی معیار کے سرٹیفکیشن کے ذریعے برآمدی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نجی شعبے کے لیے ایسا Enabling Environmentفراہم کرنا ہوگا جس میں سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات کے عمل میں غیر ضروری رکاوٹیں کم سے کم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب صرف روایتی مصنوعات برآمد کرنے کے بجائے عالمی طلب کے مطابق نئی مصنوعات، زیادہ ویلیو ایڈڈ اشیاء اور جدید خدمات کی برآمدات پر توجہ دینا ہوگی۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری کے بغیر معاشی تبدیلی کا عمل مکمل نہیں ہوسکتا۔ حکومت کا کام کاروبار کو چلانا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں نجی شعبہ سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار اور برآمدات میں قائدانہ کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے صنعتی اور برآمدی مفادات کو قومی ترجیح سمجھتے ہوئے ایسی ہر سرگرمی کی حوصلہ شکنی کرے جو پیداوار، سرمایہ کاری یا برآمدی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہو۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پاکستان کی اصل پہچان اس وقت مضبوط ہوگی جب غیر ملکی خریدار پاکستانی صنعت کو معیار، بروقت فراہمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ جوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس انسانی وسائل، صنعتی صلاحیت، زرعی پیداوار، جغرافیائی محل وقوع اور کاروباری استعداد سمیت ترقی کے لیے درکار متعدد وسائل موجود ہیں، تاہم ان صلاحیتوں کو معاشی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے قومی سطح پر مسلسل اور غیر معمولی کوشش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کے معمول کے مطابق آگے بڑھے گا یا معاشی تبدیلی کے لیے غیر معمولی رفتار اختیار کرے گا۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ، پالیسیوں کا تسلسل، صنعتی پیداوار میں توسیع، عالمی معیار کی مصنوعات، جدید ٹیکنالوجی اور حکومت و نجی شعبے کا مربوط کردار ہی ملک کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ قبل ازیں، فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ وفاقی وزیر نے ٹاپ ایکسپورٹرز میں بزنس ایکسیلنس ایوارڈ تقسیم کرنے کے علاوہ فیصل آباد چیمبر میں بزنس ایکسیلنس ایوارڈ سنٹر اور نادرا سہولت سنٹر کا افتتاح بھی کیا۔