صنفی بنیاد پر تشدد کا خاتمہ ناگزیر ہے،خواتین کی تعلیم، روزگار اور زندگی کے مختلف شعبوں میں یکساں شرکت کو یقینی بنانا ہوگا، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لئے معاشرے میں خواتین اور مردوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہوں گے، خواتین کی تعلیم، روزگار اور زندگی کے مختلف شعبوں میں یکساں شرکت کو یقینی بنانا ہوگا، جس دن صنفی فرق ختم ہوگا اس دن تشدد کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لئے معاشرے میں خواتین اور مردوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہوں گے، خواتین کی تعلیم، روزگار اور زندگی کے مختلف شعبوں میں یکساں شرکت کو یقینی بنانا ہوگا، جس دن صنفی فرق ختم ہوگا اس دن تشدد کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع سے محروم رکھنا اور انہیں صرف گھریلو امور تک محدود کرنا درست طرز عمل نہیں، خواتین کو ملکی معاملات، روزگار اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے برابر کام کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً وہ معاشرے جو اپنی مذہبی یا ثقافتی روایات کی وجہ سے خواتین کی محدود شرکت کے حوالے سے جانے جاتے تھے، وہاں بھی خواتین کی شرکت اور کردار میں تبدیلی آرہی ہے، خواتین بینکوں، ہسپتالوں، فیکٹریوں اور یونیورسٹیوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسلام نے خواتین کے حقوق سے انکار نہیں کیا بلکہ خواتین کو عزت اور حقوق دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہؓ اپنے دور کی کامیاب تاجر تھیں اور ہمارے لئے ایک رول ماڈل ہیں، اس لئے یہ تصور درست نہیں کہ عورت کا کام صرف گھر تک محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے بارے میں بعض تصورات اور تشریحات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے، قتل اور دیگر جرائم کے مقدمات میں شواہد کے حوالے سے بھی یہ تصور درست نہیں کہ ہر معاملے میں خواتین کی مخصوص تعداد میں گواہی ضروری ہے کیونکہ ٹھوس شواہد بھی قانون اور شریعت میں اہمیت رکھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خواتین پر تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہئے، کسی مرد کے لئے یہ عزت کی بات نہیں کہ وہ عورت کو تحقیر کی نظر سے دیکھے یا اس پر ہاتھ اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ذاتی ناکامیوں، مایوسیوں اور غصے کا اظہار بیوی، بیٹی، بہن یا ماں پر تشدد کی صورت میں کرنا قابل مذمت ہے، ،معاشرے کے ہر فرد کو اس رویے کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کو ایک سماجی برائی اور لعنت سمجھتے ہوئے اسے معمول کا نجی معاملہ نہیں بنانا چاہئے،انسانی حقوق کے کارکنوں اور حقوق کے محافظوں کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ خاموش رہنے کے بجائے آواز اٹھائی جائے اور متاثرہ افراد کے حقوق کا دفاع کیا جائے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہئے جیسا نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا، جہاں عورت اور مرد کے حقوق اور مقام کا احترام ہو، ماں کا مقام تسلیم کیا جائے، بھائی اور بہن، بیٹے اور بیٹی میں تفریق نہ کی جائے اور خواتین کو معاشرے میں ان کا جائز مقام اور مواقع حاصل ہوں۔انہوں نے کہا کہ مرد اور عورت اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور اسی توازن سے دنیا کا نظام قائم ہے، ہمیں فرسودہ تصورات اور تقسیم سے نکل کر ایک متوازن معاشرہ تشکیل دینے کے لئے مشترکہ کوشش کرنا ہوگی۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ دنیا سے خود کو الگ تھلگ رکھنا ممکن نہیں، اس لئے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے ساتھ خواتین کی معاشی اور سماجی شرکت کو بڑھانا ضروری ہے، حکومت بھی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں خواتین کی شرکت کے فروغ کے لئے ایکشن پلان پر عمل پیرا ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی اور مؤثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے تعاون سے بھی خواتین کی شرکت اور حقوق کے تحفظ کے لئے مختلف اقدامات جاری ہیں،وزارت انسانی حقوق اس حوالے سے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے تاہم مقررہ اہداف اسی وقت حاصل ہوں گے جب مرد و خواتین سے بالاتر ہو کر پوری قوم یہ سوچ اپنائے کہ ملک کو آگے بڑھانا ہے اور امتیاز و تفریق کا خاتمہ کرنا ہے۔وفاقی وزیر قانون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں سے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں خواتین کو مساوی مواقع حاصل ہوں اور صنفی بنیاد پر تشدد کا خاتمہ ممکن ہو۔

مزید خبریں