قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہاہے کہ اقتصادی اصلاحات کو مربوط، شفاف اور پائیدار اقتصادی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہئے بالخصوص ایسی اصلاحات جن پر عملدرآمد سے صارفین، کاروباری اداروں اور معیشت کے پیداواری شعبوں پر اضافی اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس، اقتصادی اصلاحات کو مربوط، شفاف اور پائیدار اقتصادی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانے کی ضرورت پرزور

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہاہے کہ اقتصادی اصلاحات کو مربوط، شفاف اور پائیدار اقتصادی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہئے بالخصوص ایسی اصلاحات جن پر عملدرآمد سے صارفین، کاروباری اداروں اور معیشت کے پیداواری شعبوں پر اضافی اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے مالیاتی استحکام کے ساتھ سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کے لئے بھی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پروگرام کی شرائط، مالیاتی استحکام، محصولات میں اضافہ، ڈھانچہ جاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات، موسمیاتی وعدوں، نجکاری کے اقدامات اور ان کے معیشت و عوام پر اثرات پر غور کیا گیا۔کمیٹی نے جاری توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور اس سے متعلق اصلاحات کے وعدوں کا تفصیلی جائزہ لیا جن میں پروگرام کے مقررہ اہداف پر عملدرآمد، مالیاتی استحکام، محصولات میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، صوبائی وعدوں، سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس، موسمیاتی اقدامات، نجکاری کے اقدامات اور سرکاری شعبے میں کفایت شعاری شامل ہیں۔ارکان نے اس امر پر زور دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا جائزہ صرف مقررہ اہداف کی رسمی تکمیل تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ اصلاحات کے نتیجے میں قابل پیمائش اقتصادی اور سماجی نتائج حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں۔ کمیٹی نے عملدرآمد کی مدت، زیر التوا وعدوں، سرکاری اخراجات کی موثریت اور مختلف اصلاحات کے شہریوں، کاروباری اداروں اور ٹیکس دہندگان پر اثرات کے حوالے سے مزید واضح معلومات طلب کیں۔سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ای ایف ایف پروگرام 25 ستمبر 2024 کو منظور کیا گیا تھا جس کا مجموعی حجم 7 ارب امریکی ڈالر ہے ، پروگرام کے تحت اب تک تقریبا 4.5 ارب ڈالر کی مجموعی رقم جاری کی جا چکی ہے جبکہ پروگرام کے تین جائزے مکمل ہو چکے ہیں۔ پروگرام ادائیگیوں کے توازن کی ضروریات اور معاشی استحکام میں معاون ہے،پروگرام کے تحت محصولات میں اضافہ، قرضوں کی پائیداری، مالیاتی استحکام، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے، سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس اور تجارتی آزادکاری سے متعلق اصلاحات بھی درکار ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پروگرام کے اہم وعدوں میں منظور شدہ بجٹ سے زائد اضافی اخراجات کو پارلیمان کے سامنے پیش کرنا، نئی ٹیکس ایمنسٹی اور ترجیحی ٹیکس سہولیات پر پابندی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور صوبوں کے ساتھ قومی مالیاتی معاہدے پر عملدرآمد شامل ہیں۔کمیٹی نے بنیادی سرپلس کے اہداف، حکومتی ضمانتوں اور صوبوں کی مالیاتی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ مجموعی مالیاتی فریم ورک کے ساتھ صوبائی سرپلس اور اخراجات کی ترجیحات میں کس طرح مطابقت پیدا کی جا رہی ہے۔ حکام نے انسانی وسائل کی ترقی، سماجی تحفظ اور صحت و تعلیم کے لئے کم از کم اخراجات کی سطح سے متعلق وعدوں سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔چیئرمین نے بالخصوص سماجی شعبوں میں نتائج پر مبنی رپورٹنگ کی اہمیت پر زور دیا اور ایسی معلومات طلب کیں جن سے یہ واضح ہو کہ صحت اور تعلیم پر ہونے والے اخراجات سے حقیقتاً کیا نتائج حاصل ہوئے، محض اخراجات کی رقم بتانا کافی نہیں۔کمیٹی نے ریٹیلرز کی ٹیکس رجسٹریشن اسکیم کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ ارکان نے ابتدائی طور پر محدود شرکت پر سوالات اٹھائے اور اسکیم کی موثریت کا قابل پیمائش جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے رجسٹریشن کی تعداد، حاصل ہونے والے محصولات، تعمیل کے نتائج اور اس امر کا جائزہ لینے کی ہدایت کی کہ آیا موجودہ اسکیم میں مزید تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وزارت خزانہ مقررہ مدت کے دوران اسکیم کی کارکردگی کا جائزہ لے اور واضح اہداف کے مقابلے میں عملدرآمد کرنے والے اداروں کو جوابدہ بنائے۔ عملدرآمد میں ایف بی آرکے کردار پر بھی غور کیا گیا اور اس حوالے سے مزید بریفنگ طلب کی گئی۔اجلاس میں ارکان نے قومی گرڈ پر منتقل ہونے والے صنعتی کیپٹو پاور صارفین کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار طلب کئے اور گیس و پٹرولیم کے استعمال اور گردشی قرضے پر اس منتقلی کے نتیجے میں مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ کمیٹی نے زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر عمل درآمد کا جائزہ ان کے حقیقی عملی، مالیاتی اور اقتصادی نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہئے۔کمیٹی نے سرکاری ملکیتی اداروں کے گورننس فریم ورک اور سرکاری ملکیتی اداروں، متعلقہ وزارتوں اور وزارت خزانہ کے درمیان رپورٹنگ کے نظام کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ رپورٹنگ کے نظام کو واضح کر دیا گیا ہے جبکہ مجوزہ ترامیم کا مقصد بورڈز کو مضبوط بنانا، گورننس میں بہتری لانا اور ساورن ویلتھ فنڈ کے فریم ورک کے اندر سرمایہ کاری کے نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔ارکان نے ان قانونی اداروں کے بارے میں مزید واضح معلومات طلب کیں جنہیں ایس او ای ایکٹ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے جبکہ زیر غور قانون سازی میں ترامیم کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئیں۔کمیٹی کو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ تین ادارے نجکاری عمل کے اعلی مرحلے میں ہیں جبکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی موجود ہے اور قبل از اہلیت حاصل کرنے والے فریق بھی عمل میں شریک ہیں تاہم ارکان نے مجوزہ لین دین کے ڈھانچے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کیا، بالخصوص یہ کہ آیا لین دین میں مکمل نجکاری، انتظامی کنٹرول کی منتقلی یا رعایتی انتظامات شامل ہوں گے۔ کمیٹی نے اثاثوں اور واجبات سے متعلق امور پر بھی وضاحت طلب کی اور مطالبہ کیا کہ عمل کو مزید آگے بڑھانے سے قبل مجوزہ شرائط و ضوابط پر مشتمل تحریری پریزنٹیشن پیش کی جائے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ویلیوایشن مکمل کی جا چکی ہے اور ممکنہ بولی دہندگان کو متعلقہ معلومات تک رسائی فراہم کر دی گئی ہے۔کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی تنظیم نو اور مجوزہ لین دین کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے تنظیم نو کے بعد تقریبا 9 ارب روپے کی خالص اثاثہ جاتی پوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت 75 فیصد ملکیت پر مشتمل لین دین پر غور کر رہی ہے۔ارکان نے ویلیوایشن، واجبات، لین دین سے حاصل ہونے والی رقم اور حکومت کے پاس باقی رہنے والے حصص کی پوزیشن پر مشتمل زیادہ واضح اور جامع عددی تفصیلات طلب کیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ لین دین سے متعلق مالیاتی معلومات پیشہ ورانہ، شفاف اور آسانی سے قابل فہم انداز میں فراہم کی جائیں تاکہ ارکان مجوزہ لین دین کا موثر طور پر جائزہ لے سکیں۔کمیٹی نے آئی ایم ایف کے تحت ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کا بھی جائزہ لیا، جس میں زیر التوا اصلاحات اور ادائیگی سے منسلک اقدامات شامل ہیں۔ ارکان نے سات ایسی اصلاحات کے بارے میں وضاحت طلب کی جنہیں مکمل نہ ہونے والی اصلاحات قرار دیا گیا ہے اور سوال اٹھایا کہ آیا عمل درآمد میں تاخیر کے نتیجے میں صارفین پر اضافی اخراجات عائد ہو سکتے ہیں، جن میں کاربن سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو سرکاری سرمایہ کاری کی موسمیاتی جانچ، بجٹ دستاویزات میں موسمیاتی ٹیگنگ، آفات سے متعلق مالی معاونت، بینکوں کے لیے موسمیاتی مالیاتی خطرات کے انتظام اور نجی شعبے کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر تیار کرنے کی ترغیبات سے متعلق اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دی۔کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ آیا کسی پالیسی ہدف کی رسمی تکمیل لازما عملی سطح پر موثر عمل درآمد کی عکاسی کرتی ہے۔ خصوصی توجہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر پر دی گئی، جہاں ارکان نے متعلقہ پالیسی اقدامات کی محض انتظامی تکمیل کے بجائے حقیقی فزیکل پیش رفت اور فعال سہولیات کے شواہد طلب کیے۔ کمیٹی نے سرکاری شعبے میں کفایت شعاری کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں مخصوص آپریشنل استثنی کے ساتھ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں عارضی طور پر 50 فیصد کمی اور مالی سال 2026-27 کے لیے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی شامل ہے، جس کا تخمینہ تقریبا 16.1 ارب روپے ہے۔ارکان نے ان اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی حقیقی بچت کے شواہد طلب کیے اور سوال اٹھایا کہ آیا کفایت شعاری کے اقدامات سے خاطر خواہ مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ وسیع تر بحث میں اس امر کی ضرورت پر زور دیا گیا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو قابل پیمائش بچت، اخراجات کی موثریت میں بہتری اور واضح مالیاتی نتائج سے منسلک کیا جائے۔بحث کے اختتام پر کمیٹی نے زیر التوا آئی ایم ایف اہداف، صوبہ وار اخراجات کے نتائج، محصولات میں اضافے کے اقدامات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری کے ڈھانچے، آر ایس ایف سے متعلق وعدوں اور کفایت شعاری سے حاصل ہونے والی بچت کے حوالے سے جامع اور نتائج پر مبنی رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے مزید زور دیا کہ آئندہ بریفنگز میں عمل درآمد کی واضح مدت، قابل پیمائش کارکردگی کے اشاریے اور جامع تحریری مالیاتی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ موثر پارلیمانی نگرانی ممکن ہو اور ارکان نہ صرف پروگرام کے وعدوں پر عمل درآمد بلکہ ان کے حقیقی اقتصادی اور سماجی اثرات کا بھی جائزہ لے سکیں۔کمیٹی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی عدم شرکت اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ) بل، 2026 اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ سے متعلق ایجنڈا نکات پر ایس ای سی پی اور نجکاری کمیشن کے نمائندگان کی جانب سے پیش کی گئی ناکافی بریفنگ پر بھی ناراضی کا اظہار کیا اور مذکورہ ایجنڈا نکات پر غور آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی بھی توثیق کی۔اجلاس میں رانا ارادت شریف خان، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، محمد ارشد عبداللہ وہرہ، شاہدہ بیگم، سیکرٹری خزانہ اور وزارت خزانہ، ایف بی آر، ایس ای سی پی، نجکاری کمیشن اور دیگر متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔







