وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نےڈاکٹر محمد نجیب نقی کو صدر آزادجموں وکشمیر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر نجیب نقی کے انتخاب کے فیصلے پر پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اہلیان پونچھ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ پونچھ کا بیٹا صدر منتخب ہوا، اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلیں گے، کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائیگا
وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو صدرآزادجموں وکشمیر منتخب ہونے پر مبارکباد

مزید خبریں
مظفر آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو صدر آزادجموں وکشمیر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر نجیب نقی کے انتخاب کے فیصلے پر پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اہلیان پونچھ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ پونچھ کا بیٹا صدر منتخب ہوا، اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلیں گے، کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائیگا۔آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو مضبوط اور اس کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے،آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے پالیسی لا رہے ہیں،خطہ کی تعمیر وترقی کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی خدمات کے باعث ہم یہاں تک پہنچے ہیں اور ہم سب کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو صدرآزادکشمیر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور مسلم لیگ ن کے قائدنواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر امور کشمیر انجنیئرامیر مقام، وفاقی وزرارانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری سمیت پوری پارلیمانی پارٹی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب نقی اور ان کے خاندان کی پونچھ اور پورے آزاد کشمیر کے لیے بے شمار خدمات ہیں، ان کا صدر منتخب ہونا اس علاقے کے لیے ٹھنڈی ہوا کی مانند ہے، مسئلہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے معاملات ڈاکٹر نجیب نقی سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ افسوس ہے کہ پونچھ کے سات حلقوں میں انتخابات نہیں ہوئے، جب تک وہاں انتخابات نہیں ہوتے یہ اسمبلی مکمل نہیں ہوگی، کوشش ہے کہ انتخابی عمل جلد مکمل ہو۔افتخار گیلانی نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے پالیسی لے کر آرہے ہیں اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے، ہم نے ابھی تک کوئی تبادلہ نہیں کیا، انتظامیہ میں سابق حکومت کے دور کے لوگ ہی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن پیکج کے حوالے سے کچھ اعتراضات سامنے آرہے تھے، اس لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔








