وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا مجوزہ پولیس ایکٹ آئین اور وفاقی قوانین سے متصادم ہے، پاکستان پولیس سروس (پی ایس پی) افسران کی تعیناتی کا اختیار وفاق کے پاس ہے
خیبرپختونخوا حکومت کا مجوزہ پولیس ایکٹ آئین اور وفاقی قوانین سے متصادم ہے، بیرسٹر عقیل ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا مجوزہ پولیس ایکٹ آئین اور وفاقی قوانین سے متصادم ہے، پاکستان پولیس سروس (پی ایس پی) افسران کی تعیناتی کا اختیار وفاق کے پاس ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس فورس کو اپنے تابع کرنے کے لئے قانون سازی کی کوشش غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔جمعرات کو اختیار ولی خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا کابینہ کے پاس ایسا قانون منظور کرنے کا آئینی و قانونی اختیار نہیں، صوبے ازخود پی ایس پی افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری نہیں کر سکتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ ایکٹ سیاسی مقاصد کے تحت لایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے صورتحال خراب ہے، دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ صوبائی حکمران احتجاج میں مصروف ہیں، اب پولیس کو صوبائی حکومت کے تابع کرنے کے لئے قانون سازی کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس موقع پر اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے اور پولیس فورس کو اپنے عسکری ونگ اور ٹائیگر فورس میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبہ انتظامی طور پر لاوارث ہو چکا ہے اور صوبائی قیادت شہدا ء کے جنازوں میں شرکت تک نہیں کرتی جبکہ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اختیار ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کا اقدام وفاق کے ساتھ براہ راست تصادم کی راہ ہموار کرنے اور ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز پیدا کرنے کے مترادف ہے تاہم وفاقی حکومت صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے ، جب تک صوبے کے عوام اور سیاسی جماعتیں مطالبہ نہیں کریں گی، گورنر راج نافذ نہیں کیا جائے گا۔







