پاکستان کو اس وقت انتشار نہیں، امن، استحکام اور معاشی بحالی کی ضرورت ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی انتشار نہیں بلکہ امن، استحکام اور معاشی بحالی کی

فیصل آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی انتشار نہیں بلکہ امن، استحکام اور معاشی بحالی کی ضرورت ہے، سیاسی مسائل کا حل سڑکوں پر احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنے میں ہے۔فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں ایسی سرگرمیوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو قومی معیشت اور امن و امان کو متاثر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر ایک نئی شناخت ملی ہے، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہوا ہے جبکہ ملک معاشی میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں قومی یکجہتی اور داخلی استحکام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی قیدی نہیں بلکہ ایک عدالت سے سزا یافتہ شخص ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کا مقدمہ دستاویزی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص خود کو بے گناہ سمجھتا ہے تو اسے سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بجائے عدالتوں میں اپنی اپیل دائر کرکے مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے 190 ملین پاؤنڈ کے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو واپس کی جانے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے بجائے ملک ریاض کے جرمانے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی جس سے ایک فرد کو فائدہ پہنچا۔ ان کے مطابق یہ تقریباً 60 ارب روپے کا معاملہ ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے خود بھی مختلف مقدمات کا سامنا کیا اور عدالتوں سے بری ہو کر باعزت سرخرو ہوئے، اس لیے قانونی معاملات کا حل بھی عدالتوں کے ذریعے ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو احتجاج، تصادم اور سڑکوں پر محاذ آرائی کی طرف لے جانے کے بجائے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ملک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت امن کا متقاضی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دشمن معرکہ حق میں شکست کے بعد غیر روایتی جنگ کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے اندرونی سطح پر کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز ضروری ہے جو امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے پاکستان کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا ان قوتوں کو جو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے سیاسی حلقوں اور عوام کو خود کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد اور امن کو کس طرح مقدم رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے اندر موجود سنجیدہ اور محب وطن عناصر پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور ایسے عناصر سے اپنی جماعت اور ملک کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کریں جو سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ملکی معاشی بحالی کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بااختیار اور موثر بلدیاتی نظام ناگزیر ہے ، مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل کی فراہمی کے بغیر عوام کے مسائل نچلی سطح پر موثر انداز میں حل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد 17 شعبے صوبوں کو منتقل کیے گئے تاہم صوبوں نے ان اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کیاجس کے نتیجے میں صوبائی مرکزیت میں اضافہ ہوا۔ اس صورت حال نے عوامی خدمات کی فراہمی اور مقامی سطح پر مسائل کے حل کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تقریباً 160 اضلاع میں بااختیار لوکل گورنمنٹس قائم کرکے انہیں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) سے براہ راست فنڈز فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام کے بنیادی مسائل ضلع کی سطح پر حل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ محض بلدیاتی انتخابات کروا دینا کافی نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کو موثر اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی اختیار بھی دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، آبادی، زراعت، میونسپل سروسز اور دیگر سماجی شعبوں میں صوبائی مرکزیت کے باعث گزشتہ 15 برس کے دوران مطلوبہ بہتری حاصل نہیں کی جا سکی۔ انہوں نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی ادارے عوام کو ان کے گھر کی دہلیز کے قریب بہتر سرکاری خدمات فراہم کرنے اور مقامی نوعیت کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی سطح پر موثر مقامی حکومتیں قائم ہونے سے صوبائی سطح پر انتظامی بوجھ بھی کم ہوگا اور عوامی نمائندگی کو مزید موثر بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام کا قیام محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور منتخب نمائندوں کے لیے بھی ایک اہم امتحان ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرے اور ایسا نظام تشکیل دے جس میں مقامی حکومتیں اختیارات اور وسائل کے ساتھ عوامی مسائل حل کرنے کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی استحکام، امن، معاشی بحالی اور موثر طرز حکمرانی کے لیے تمام اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان آئینی حدود میں رہتے ہوئے تعاون کی ضرورت ہے جبکہ عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔