ایک مقدمہ، ایک شناخت اقدام کے تحت ہر کیس کو عدالتی سفر کے دوران منفرد شناخت دی جائے گی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ مقدمات کی ای فائلنگ کا آغاز ابتدائی طور پر خاندانی مقدمات سے بطور پائلٹ منصوبہ ملک کے تمام صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں میں کیا جائے گا، جبکہ ’’ایک مقدمہ، ایک شناخت‘‘ اقدام کے تحت ہر مقدمے کو اس کے پورے عدالتی سفر کے دوران ایک منفرد شناخت فراہم کی جائے گی

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ مقدمات کی ای فائلنگ کا آغاز ابتدائی طور پر خاندانی مقدمات سے بطور پائلٹ منصوبہ ملک کے تمام صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں میں کیا جائے گا، جبکہ ’’ایک مقدمہ، ایک شناخت‘‘ اقدام کے تحت ہر مقدمے کو اس کے پورے عدالتی سفر کے دوران ایک منفرد شناخت فراہم کی جائے گی۔یہ بات انہوں نے قومی عدالتی آ ٹو میشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس محمد اعظم خان، سپریم کورٹ کے رجسٹرار، ڈائریکٹر جنرل اصلاحات، لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی جبکہ بعض ارکان آن لائن شریک ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان نے کمیٹی کو ’’ایک مقدمہ، ایک شناخت‘‘ اقدام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے متعلقہ فریقین سے مشاورت کی جا چکی ہے اور ابتدائی مسودہ تفصیلی جائزے اور بہتری کے لیے قومی عدالتی خودکاری کمیٹی کو فراہم کر دیا گیا ہے۔ جائزے کے بعد مسودہ حتمی غور کے لیے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں مقدمات کی ای فائلنگ کے نفاذ کی حکمت عملی اور عدالتی نظام میں یکساں ڈیجیٹل فائلنگ کے لیے مجوزہ معیاری سانچوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیئرمین قومی عدالتی آ ٹو میشن کمیٹی جسٹس محمد علی مظہر نے ای فائلنگ کے مجوزہ سانچے پر تفصیلی غور کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں اور اسلام آباد کے لیے ایک جامع اور یکساں سانچہ تیار کیا جانا چاہیے، جس میں صوبائی سطح پر اختلاف نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ سانچہ ضابطہ دیوانی کی متعلقہ دفعات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ججز، عدالتی عملے، وکلا اور سائلین کے لیے قابل استعمال بنایا جائے۔ انہوں نے ارکان کو ہدایت کی کہ سانچے کا قانونی اور عملی دونوں پہلوؤں سے جائزہ لے کر دو ہفتوں میں اپنی تجاویز پیش کریں۔ اجلاس میں عدالتی اعداد و شمار کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے حال ہی میں شروع کیے گئے ڈیش بورڈ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے بتایا کہ متعلقہ ہائی کورٹس اس نظام میں شریک ہیں اور ان کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس ڈیٹا اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے جیل خانہ جات کے محکموں سے ڈیٹا ایک ماہ کی تاخیر سے موصول ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حقیقی وقت میں عدالتی نگرانی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ متعلقہ حکام کے ساتھ معاملہ ترجیحی بنیادوں پر اٹھا کر رپورٹنگ کے عمل کو بہتر بنایا جائے تاکہ ڈیش بورڈ بروقت اپ ڈیٹ رہے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل اقدامات سے عدالتی طریقہ کار کو یکساں بنانے، مقدمات کی محفوظ شناخت، عدالتی اعداد و شمار کی دستیابی اور عدالتوں کی خدمات کو مزید قابل رسائی اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔