چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس، انٹرنیٹ کارکردگی، ٹیلی کام کمپٹیشن رولز، سوشل میڈیا ریگولیشن، سائبر فراڈ اور صارفین کے ٹیرف کا جائزہ لیا
چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس، انٹرنیٹ کارکردگی، ٹیلی کام کمپٹیشن رولز، سوشل میڈیا ریگولیشن، سائبر فراڈ اور صارفین کے ٹیرف کا جائزہ لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس جمعرات کو چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ایک وسیع ایجنڈے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹرز کامران مرتضیٰ، ڈاکٹر افنان اللہ خان، سعدیہ عباسی اور شہادت اعوان نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ سمیت وزارتِ آئی ٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔کمیٹی نے مجوزہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپٹیشن رولز کا جائزہ لیا۔ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے حکام نے قواعد کو حتمی شکل دینے کے لئے مزید وقت مانگتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے۔
وزارت کے حکام نے آگاہ کیا کہ مسابقتی قواعد (کمپٹیشن رولز) کو حتمی شکل دینے سے قبل ٹیلی کام آپریٹرز سے مشاورت ناگزیر ہے جبکہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اس سلسلے میں مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اتصالات سے بقایاجات کی وصولی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) سے متعلق جائیدادوں کے حل طلب تنازع کا بھی جائزہ لیا۔وزارت کے حکام نے بتایا کہ تاحال منتقل نہ ہونے والی جائیدادوں کا معاملہ ہنوز حل طلب ہے۔
اس معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے کمیٹی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ توہین آمیز مواد پر مبنی اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا جاتا ہے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ تحقیقات کے اس عمل کو مزید تیز کیا جائے۔کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان پیغام رسانی اور محفوظ رابطوں کے لئے اپنی الگ سوشل میڈیا ایپلی کیشن تیار اور لانچ کرے اور اس مجوزہ پاکستانی ایپلی کیشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ طلب کی۔کمیٹی کو کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کے مبینہ فراڈ پر ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ مبینہ فراڈ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ساتھ مختصر مدت کے لئے رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کے ذریعے کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ کال سینٹرز سے جڑے فراڈ کی تحقیقات کے لئے تکنیکی ماہرین کی ضرورت ہے اور چونکہ ایسی مہارت این سی سی آئی اے کے پاس موجود ہے، اس لئے یہ معاملہ انہیں بھیجا جا رہا ہے۔این سی سی آئی اے کے حکام کا مؤقف تھا کہ پاکستان کو اپنے ویزا جاری کرنے کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کو بھی اپنے قواعد و ضوابط اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہو گا۔ کمیٹی کو ملک کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے صارفین سے اضافی رقوم وصول کئے جانے کے الزامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے نجی ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے مبینہ اوور چارجنگ کے اس معاملے کی جامع چھان بین کے لئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔








