وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کی احتجاج کے حوالہ سے پی ٹی آئی کی قیادت کے اختلافات کی نشاندہی
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کی احتجاج کے حوالہ سے پی ٹی آئی کی قیادت کے اختلافات کی نشاندہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کی سطح پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے متضاد بیانات پارٹی کے اندر ہم آہنگی کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے اس کے اعلان کردہ احتجاج کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عقیل ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے کچھ ارکان بات چیت کے حامی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ جارحانہ بیانات کے ذریعے احتجاج کی حمایت اور صورتحال کو کشیدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی جس سے امن و امان کو نقصان پہنچے۔ وزیر مملکت نے مزید کہا کہ حکام امن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ انہوں نے آئینی آپشنز کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت نے کبھی بھی مذاکرات کے آپشن کو مسترد نہیں کیا جبکہ پی ٹی آئی رہنما بار بار مذاکراتی عمل سے پیچھے ہٹے ہیں۔عقیل ملک نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی ایسے احتجاج میں ملوث رہی ہے جس سے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کے حقوق اور تحفظ کی حفاظت کرے گی، جہاں مقامی اور بین الاقوامی شہری رہائش پذیر ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ احتجاج میں انتہا پسند گروپوں کے شامل ہونے کا امکان ہے جو صورتحال کا فائدہ اٹھا کر امن و امان کے ایسے اضافی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں ، جن کا مشاہدہ ماضی میں بھی کیا جا چکا ہے۔








