وزیراعظم شہبازشریف کی امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے مشترکہ وفدسےملاقات ،امریکی کاروباری برادری کو زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
وزیراعظم شہبازشریف کی امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے مشترکہ وفدسےملاقات ،امریکی کاروباری برادری کو زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت

مزید خبریں
نیو یارک۔25ستمبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےپاکستان کو امریکی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کی اہم منزل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت مستحکم اور ترقی جانب گامزن ہے ،پاکستان کی بڑی مارکیٹ اور نوجوان افرادی قوت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے اہم عوامل ہیں۔ امریکی کاروباری برادری بالخصوص مینوفیکچرنگ، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کر سکتی ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے مشترکہ وفدسےملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسلز اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اہم پل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات میں گزشتہ ایک سال میں نمایاں بہتری آئی ہے اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ہم مل کر پاکستان میں موجود مواقع پر سنجیدگی سے غور کریں۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں متنوع شعبہ جات میں بے شمار مواقع اور صلاحیتیں کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کی منتظر ہیں،ہم پاکستان میں آپ کا خیرمقدم کرنے اور تمام امور پر تفصیلی بات چیت کے لئے تیار ہیں ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ہماری معیشت اب مستحکم ہورہی ہے اور ہم معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں،بدقسمتی سے حالیہ خلیج بحران نے ہمیں مشکلات سے دوچار کردیا تاہم ہم اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قیام امن کی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کے لئے اپنی پوری توانائی صرف کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ جون میں ہم درپیش صورتحال کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن اس کے بعد حالات دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئے،توقع ہے کہ دوست ممالک کے تعاون سے ہم اس صورتحال کو بہتر بنانے اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے میں سرخرو ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں امن وامان قائم رہنا کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے نہایت اہم ہے،ہم نے بڑی حد تک ادارہ جاتی اصلاحات شروع کی ہیں، معیشت کو ڈیجیٹائز کررہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ای گورننس کے لئے تیزی سے کام جاری ہے۔انہوں نےزراعت سمیت دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ زراعت سرفہرست ہے،ہم زراعت میں مصنوعی ذہانت ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید زرعی مشینری کے استعمال کی بات کرتے ہیں،جن میں کمبائن ہارویسٹر اور دیگر آلات شامل ہیں تاکہ پیداوار اور کارکردگی میں اضافہ ہو، اخراجات کم ہوں اور ایک ایک دانے کو محفوظ بنایا جاسکے،یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کے پاس آج بھی سب سے زیادہ صلاحیت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کان کنی اور معدنیات کے شعبہ میں اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے،اس کے علاوہ آئی ٹی اور اے آئی سے متعلقہ اقدامات ہیں،ہماری آبادی کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے،ہم انہیں پیشہ وارانہ تربیت،مہارت فراہم کرکے بااختیار بنانے کی پوری کوشش کررہے ہیں،یہ نوجوان پاکستان کا بڑا اثاثہ ہیں ، ان پر توجہ مرکوز کر کے انہیں ثمر آور بنانا ہے اور ان کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہیں ۔
وزیراعظم نے حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں متعدد چیزیں سیکھنا ہوں گی ،پاکستان توانائی کے ذخائر، ایندھن ،گیس کے حوالے سے تحفظ اور سلامتی دونوں یقینی بنا سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ جہاز رانی اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔وزیر اعظم نے شرکا سے کہا کہ مذکورہ پانچ وہ شعبے ہیں جنہیں ترجیجی طور پر بیان کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نجکاری کا شعبہ سرمایہ کاروں کے لئے دلچسپی کا ایک اور بہت اہم شعبہ ہے،اس وقت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری ہو چکی ہے نئے مالکان جو سب پاکستانی ہیں وہ اس میں بہتری لائیں گے ۔ہم نے ایک بینک کی نجکاری بھی کی ہے،ہم اب بجلی کی تقسیم کار کمینیوں کی نجکاری کرنے جارہے ہیں،اسی طرح باہمی دلچسپی کے بہت سے دیگر شعبہ جات بھی نجی شعبہ کے حوالے کئے جارہے ہیں کیونکہ حکومت کا کام سہولت فراہم کرنا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کا کام نجی شعبہ کی معاونت کے لئے ایک عمل انگیز کے طور پر سازگار ماحول اور سہولت فراہم کرنا ہے ۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے مشترکہ وفدسے ملاقات میں وزیراعظم نے امریکی کاروباری رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور امریکا کے کاروباری شعبوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری اور نتیجہ خیز شراکت داری کو سراہا۔وزیراعظم نے امریکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کی معیشت کے اہم شعبوں بالخصوص مینوفیکچرنگ، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کو اجاگر کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کاروبار دوست ماحول کا قیام ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ملاقات میں پاکستان کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں مصروف امریکی کمپنیوں بوئنگ، ایبٹ، پیپسی کو، کوکا کولا، ریسکیورٹی، ماسٹر کارڈ، این ویڈیا، ای ٹی ایس کیپیٹل، ٹی آر جی انٹرنیشنل، آرچر ڈینیئلز مڈلینڈ کمپنی، نارتھ شور میڈیکل لیب، ریکٹ، ویزا اور ایکسیلیریٹ انرجی کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔
امریکی-پاکستان بزنس کونسل کی صدر ایسپرانزا جیلیلیان نے امریکی کاروباری اداروں کے ساتھ وزیراعظم کی مسلسل رابطہ کاری پر ان کا شکریہ ادا کیا اور امریکی چیمبر آف کامرس کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے فروغ کے لیے منصوبوں سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے صدرپیٹر ٹچانسکی نے پاکستان میں موجودہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے اور نئی شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے میں بی سی آئی یو کی رکن کمپنیوں کی دلچسپی سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ تعاون کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی رابطہ جاری رکھیں گے۔وزیراعظم نے پاکستان کو امریکی کاروباری اداروں کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کی منزل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بڑی مارکیٹ اور نوجوان افرادی قوت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے اہم عوامل ہیں۔
امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے ارکان نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے کاروباری مفادات، موجودہ سرگرمیوں اور ملک میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ملاقات کے موقع پر وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، معاون خصوصی وزیراعظم طارق فاطمی، چیئرمین پی وی آر اے بلال بن ثاقب، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ نے کی۔








