عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او)نے بچپن کے کینسر سے آگاہی کے مہینے کے موقع پر پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں میں کینسر قابلِ علاج ہے اور بروقت تشخیص اور علاج سالانہ کینسر کی تشخیص سے گزرنے والے 8 ہزار سے زائد پاکستانی بچوں کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا بچپن کے کینسر کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او)نے بچپن کے کینسر سے آگاہی کے مہینے کے موقع پر پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں میں کینسر قابلِ علاج ہے اور بروقت تشخیص اور علاج سالانہ کینسر کی تشخیص سے گزرنے والے 8 ہزار سے زائد پاکستانی بچوں کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچپن کے کینسر کی زیادہ تر اقسام کا علاج معیاری ادویات، سرجری اور ریڈیوتھراپی سمیت دیگر طریقۂ علاج سے ممکن ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ ایسے ترقی یافتہ ممالک جہاں کینسر کے علاج کی جامع سہولیات عام طور پر دستیاب ہیں وہاں 80 فیصد سے زائد بچے صحت یاب ہو جاتے ہیں،تاہم کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں صحت یابی کی شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے جس کا مطلب ہے کہ کینسر سے متاثرہ ہر 10 میں سے 7 بچے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، اس کی بڑی وجوہات میں معیاری علاج اور ادویات تک رسائی کا فقدان شامل ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ زندگی بچانے والے علاج تک رسائی بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کے ساتھ مل کر گلوبل پلیٹ فارم فار ایکسس ٹو چائلڈہڈ کینسر میڈیسنز کے تحت پاکستان کو معیاری اور یقینی معیار کی حامل بچپن کے کینسر کی ادویات مفت فراہم کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان کے چار ہسپتال پہلے ہی عالمی ادارہ صحت کے ساتھ شراکت داری میں ضروری تیاریوں پر کام کر رہے ہیں جو رواں سال کے اختتام اور 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے جس کے بعد ان ہسپتالوں کو کینسر کی ادویات فراہم کی جا سکیں گی،مزید سات ہسپتالوں سے بھی توقع ہے کہ وہ 2027 کے دوران تکنیکی سفارشات پر عمل درآمد مکمل کریں گے تاکہ وہ بھی مفت ادویات وصول کرنے کے لیے تیار ہو سکیں۔
اس اقدام کا حتمی مقصد پاکستان میں بچوں کے کینسر کا علاج فراہم کرنے والے تمام ہسپتالوں کو معیاری اور یقینی معیار کی حامل ادویات مفت فراہم کرنا ہے۔عالمی ادارہ صحت اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال کے ماہرین نے فروری 2026 میں اسلام آباد کے نوری ہسپتال کا دورہ بھی کیا تھا جہاں انہوں نے معیاری ادویات کی فراہمی کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سفارشات پیش کی تھیں۔29 جولائی 2025 کو عالمی ادارہ صحت اور وزارتِ صحت کے درمیان معاہدے کے ذریعے پاکستان نے گلوبل پلیٹ فارم فار ایکسس ٹو چائلڈہڈ کینسر میڈیسنز میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی تھی۔ پاکستان مشرقی بحیرۂ روم کے خطے میں اس عالمی پلیٹ فارم میں شامل ہونے والا دوسرا ملک ہے۔
یہ پلیٹ فارم عالمی ادارہ صحت اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال نے 2021 میں قائم کیا تھا جس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کو تصدیق شدہ اور معیاری بچپن کے کینسر کی ادویات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام میں پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن (PAHO)، سٹریٹجک فنڈ اور اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسیف بھی تعاون کر رہے ہیں۔ یونیسیف پاکستان کے لیے ادویات کی خریداری اور ترسیل کی ذمہ داری ادا کرے گا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس معاہدے سے پاکستان میں کینسر سے متاثرہ بچوں کے لیے، ان کی معاشی حیثیت سے قطع نظر نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس اقدام کے تحت 2030 تک بچوں کے کینسر میں صحت یابی کی شرح 30 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس اقدام کے ذریعے وزارتِ صحت اور صوبائی حکام کو تکنیکی رہنمائی، وسائل اور عملی معاونت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ بچوں کے کینسر کے علاج اور دیگر متعلقہ سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ طبی سائنس کی ترقی کی بدولت آج بچپن کا کینسر قابلِ علاج ہے، تاہم اس کے لیے بروقت تشخیص اور مسلسل علاج بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینسر سے متاثرہ ہر بچے کو بیماری کو شکست دینے اور اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ملنا چاہیے خواہ اس کا تعلق کسی بھی سماجی یا معاشی پس منظر سے ہو، وہ کہیں بھی رہتا ہو یا اس کی شناخت کچھ بھی ہو۔ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت گلوبل پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کے ساتھ شراکت داری پر فخر محسوس کرتا ہے اور ہر بچے کو کینسر سے صحت یاب ہو کر صحت مند زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔








