چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر حسان دائود بٹ نے کہا ہے کہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی خلیج کے باعث دنیا میں حقیقی اور پائیدار ترقی ممکن نہیں، ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل، جدید ٹیکنالوجی، علم اور مہارت کو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ شیئر کریں تاکہ عالمی سطح پر جامع، متوازن اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا …
امیر و غریب ممالک کے درمیان معاشی خلیج ختم کیے بغیر پائیدار عالمی ترقی ممکن نہیں، حسان دائود بٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر حسان دائود بٹ نے کہا ہے کہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی خلیج کے باعث دنیا میں حقیقی اور پائیدار ترقی ممکن نہیں، ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل، جدید ٹیکنالوجی، علم اور مہارت کو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ شیئر کریں تاکہ عالمی سطح پر جامع، متوازن اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت سیاسی عدم ہم آہنگی، معاشی تقسیم، موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، علاقائی تنازعات اور تجارتی چیلنجز سمیت متعدد مسائل کا سامنا کر رہی ہے، ایسے حالات میں بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان مکالمہ اور تعاون پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
حسان دائود بٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان مذاکرات اور باہمی روابط میں اضافہ عالمی مسائل کے حل کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتحال، مشرق وسطیٰ کے بحران، روس یوکرین تنازع اور عالمی تجارت سمیت متعدد ایسے معاملات ہیں جن پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور مفاہمت نہ صرف امریکہ اور چین بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کا یہ موقف قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور چین جب مل کر آگے بڑھتے ہیں تو اس سے دنیا کو فائدہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سربراہان مملکت کی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس، اداروں اور عوام کے درمیان روابط کو بھی فروغ دیا جائے۔سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک نے کہا کہ دنیا کو درپیش بڑے مسائل کا حل کسی ایک ملک کے پاس نہیں، اس لیے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
حسان دائود بٹ نے کہا کہ پاکستان، نیپال اور دیگر ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے اثرات سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جبکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی استعداد کئی ترقی پذیر ممالک کے پاس موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی ترقی کا تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ترقی پذیر ممالک کو معاشی ترقی کے یکساں مواقع، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کی ترقی تک رسائی حاصل نہ ہو۔ ترقی یافتہ ممالک کو عالمی وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کے لیے اپنا کردار مزید موثر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے چین ایک اہم ہمسایہ اور شراکت دار ہے جبکہ امریکہ بھی پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے مفاد میں ہے کہ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو فروغ دیا جائے۔








