پٹرول ریلیف سکیم کا مقصدمتاثرہ طبقات کو براہ راست ریلیف دینا ہے، عوام، سرکاری و نجی املاک اور اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بناناریاست کی ذمہ داری ، بلال اظہر کیانی کی شزا فاطمہ خواجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس

پٹرول ریلیف سکیم کا مقصدمتاثرہ طبقات کو براہ راست ریلیف دینا ہے، عوام، سرکاری و نجی املاک اور اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بناناریاست کی ذمہ داری ، بلال اظہر کیانی کی شزا فاطمہ خواجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات، محدود وسائل اور آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرول ریلیف سکیم کے ذریعے ان طبقات کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے جو پٹرول کی قیمتوں سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ، موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور لوڈر استعمال کرنے والوں کو ہر ہفتے 500 روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ہر 10 دن بعد 1000 روپے تک کی رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔

جمعہ کویہاں وفاقی وزیرشزا فاطمہ خواجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ پٹرول ریلیف سکیم پرکامیابی سے عمل درآمدجاری ہے، گزشتہ دو روز کے دوران میں نے اپنے حلقے کی تینوں تحصیلوں میں تقریبا ً40 پٹرول پمپس کا دورہ کیا اور شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں سے براہ راست بات چیت کی۔ بزرگ شہریوں اور طلبہ سمیت متعدد افراد کی رجسٹریشن میں نے خود کرائی اور انہیں موقع پر ہی ریلیف حاصل کرتے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور لوڈر استعمال کرنے والوں کے لیے سکیم کے تحت ہر ہفتے 500 روپے کا مفت پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے جو ماہانہ تقریبا ً2000 روپے بنتا ہے جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے ہر 10 دن میں 1000 روپے تک کی رعایت دی جا رہی ہے جو ماہانہ تقریبا ً3000 روپے بنتی ہے۔

سرکاری سکیم کے مطابق دو اور تین پہیہ گاڑیوں کے لیے 500 روپے ہفتہ وار ریلیف پانچ لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 10 دن میں 1000 روپے کی رعایت مقرر کی گئی ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور لوڈر کے لیے بنیادی طور پر شناختی کارڈ اور متعلقہ گاڑی کا ایکسائز رجسٹریشن کارڈ درکار ہے۔ گاڑی کا رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے تاہم اس کا صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا لازمی نہیں جبکہ رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والی موبائل سم شناختی کارڈ سے منسلک ہونی چاہیے تاہم 800 سی سی تک کی گاڑی کے معاملے میں گاڑی کا صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے شناختی کارڈ اور گاڑی کے متعلقہ رجسٹریشن کاغذات کے ساتھ قریبی پٹرول پمپ پر جائیں جہاں عملہ اور متعلقہ رضاکار رجسٹریشن میں معاونت کریں گے ، بعض معاملات میں رجسٹریشن، ٹوکن کے اجراء اور پٹرول کے حصول کا عمل چند منٹ میں مکمل ہو رہا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ یہ محض کاغذی سکیم نہیں بلکہ عملی طور پر پٹرول پمپس پر فعال ہے اور حکومت کی خواہش ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ مستحق شہری فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے سیاسی کارکنوں، متعلقہ اداروں اور میڈیا سے اپیل کی کہ سکیم کے بارے میں معلومات گاؤں، گلی اور محلے کی سطح تک پہنچائی جائیں تاکہ صرف معلومات کی کمی کی وجہ سے کوئی مستحق شہری اس سہولت سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عمومی طور پر پٹرولیم لیوی میں چند روپے کی کمی کی جاتی تو اس کا فائدہ بڑی اور چھوٹی ہر قسم کی گاڑی استعمال کرنے والوں کو ہوتا تاہم موجودہ طریقہ کار میں وسائل کو زیادہ متاثرہ طبقات تک براہ راست پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، موٹر سائیکل سوار کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف، پانچ لیٹر کے استعمال کو بنیاد بنایا جائے تو تقریبا 100 روپے فی لیٹر رعایت کے برابر بنتا ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت کی کوشش ہے کہ دستیاب وسائل کو ایسے انداز میں استعمال کیا جائے جس سے عوام کے ماہانہ اخراجات کا بوجھ کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ جن پٹرول پمپس پر روزانہ چند سو ٹوکن استعمال ہو رہے ہیں وہاں یہ تعداد ہزاروں تک پہنچے اور زیادہ سے زیادہ شہری سکیم سے مستفید ہوں۔انہوں نے بتایا کہ ادائیگیوں کے حوالے سے ان کے پاس اس وقت حتمی مجموعی اعداد و شمار موجود نہیں تاہم متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ موجود ہے ،پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کا سائیکل تقریبا ً24 گھنٹے میں مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ کسی مخصوص ادائیگی کے مسئلے کی صورت میں سٹیٹ بینک، اوگرا اور وزارت پٹرولیم باہمی رابطے سے اسے حل کرتے ہیں۔ وزارت پٹرولیم کے مطابق 24 ستمبر تک ملک کے 10 ہزار سے زائد پٹرول پمپس میں سے 8500 سے زیادہ کو ادائیگیاں کی جا چکی تھیں۔انہوں نے کہا کہ سکیم کا مقصد بالخصوص طلبہ، مزدوروں، نوکری پیشہ افراد اور روزمرہ آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل یا چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کو براہ راست سہولت فراہم کرنا ہے ماہانہ دو سے تین ہزار روپے تک کا ریلیف موجودہ حالات میں گھریلو بجٹ کے لیے بامعنی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیر مملکت نے احتجاجی سیاست کے حوالہ سے سوال کے جواب میں بتایا کہ ایک طرف اگر وفاقی حکومت شہریوں کوریلیف دینے کیلئے دن رات کام کررہی ہے تو دوسری جانب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، ایسے میں سیاسی و انتظامی توانائی کا بڑا حصہ پولیس کو وسائل اور تحفظ فراہم کرنے، فرانزک سہولیات بہتر بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا مورال بلند کرنے پر صرف ہونا چاہیے۔اسلام آباد میں احتجاج اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی خواہش نہیں ہوتی کہ شہر میں کنٹینرز رکھے جائیں، راستے بند ہوں یا شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو تاہم ماضی کے واقعات اور امن و امان کے خدشات کے پیش نظر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام، سرکاری و نجی املاک اور اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے تاہم تشدد، توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی حکومت عوام کے تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے مطابق حفاظتی اقدامات کرے گی۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ اسلام آباد مکمل طور پر بند ہے ، میں خود گزشتہ چند روز کے دوران سیالکوٹ، گجرات، جہلم، دینہ اور سوہاوہ سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچاہوں اور آمدورفت جاری دیکھی تاہم جہاں ممکنہ تشدد سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی اقدامات ضروری ہوں گے وہاں حکومت اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان آئی ایم ایف پروگرام یا مذاکرات کے مرحلے میں رہا ہے اور سیاسی و انتظامی چیلنجز کے باوجود معاشی پروگرام پر کام جاری رکھا گیا۔ موجودہ پروگرام کے حوالے سے آئی ایم ایف نے مئی 2026ء میں پاکستان کے تیسرے جائزے کی تکمیل کی تھی اور تقریبا 1.1 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کی منظوری دی تھی۔

آئی ایم ایف کے مطابق دسمبر 2025ء کے اختتام پر پاکستان کے مجموعی سرکاری زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختارریٹنگ میں بھی بہتری آئی ہے۔ جولائی 2026ء میں ایس اینڈپی گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی ریٹنگ میں بہتری کی تھی جبکہ آؤٹ لک کومستحکم رکھا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اور بیرونی مشکلات کے باوجود حکومت کی توجہ معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی شعبے کو مضبوط بنانے پر رہی ہے اور اب اگلا ہدف حاصل شدہ استحکام کو پائیدار اقتصادی نمو میں تبدیل کرنا ہے تاکہ روزگار، برآمدات، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو۔

وزیر مملکت نے کہا کہ معاشی استحکام کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، اس لیے اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ایسے پائیدار اقتصادی ماحول کی تشکیل ضروری ہے جو عام آدمی کے لیے روزگار، کاروبار اور آمدنی کے بہتر مواقع پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف مشکل معاشی حالات میں مستحق شہریوں کو براہ راست پٹرول ریلیف فراہم کر رہی ہے اور دوسری طرف دہشت گردی اور امن و امان کے چیلنجز سے بھی نمٹ رہی ہے، اس لیے دستیاب سیاسی اور انتظامی توانائی عوام کو ریلیف دینے، معیشت مضبوط بنانے اور ریاستی اداروں کی استعداد بڑھانے پر صرف ہونی چاہیے۔