گورنرسٹیٹ بینک کا خود انحصاری کے تحت پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ اسکیم کا افتتاح، ہر سال 16 ارب روپے کے انعامات دینے کا اعلان

بینک دولتِ پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے جمعہ کو پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ سکیم کا افتتاح کردیا۔ مارکیٹ کی بنیاد پر انعامات دینے کی یہ سکیم بینکاری صنعت کے نمائندہ پلیٹ فارم پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام شروع کی گئی ہے۔ سکیم کے تحت اپنی ترسیلات بینکاری ذرائع سے پاکستان بھیجنے والے صارفین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہر سال مجموعی طور پر 16 ارب روپے …

اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):بینک دولتِ پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے جمعہ کو پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ سکیم کا افتتاح کردیا۔ مارکیٹ کی بنیاد پر انعامات دینے کی یہ سکیم بینکاری صنعت کے نمائندہ پلیٹ فارم پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام شروع کی گئی ہے۔ سکیم کے تحت اپنی ترسیلات بینکاری ذرائع سے پاکستان بھیجنے والے صارفین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہر سال مجموعی طور پر 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیئے جائیں گے۔ سکیم کے تمام اخراجات بینکاری صنعت برداشت کرے گی اور قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔

سٹیٹ بینک کی سرپرستی میں تشکیل دی گئی اس سکیم کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اس بات کی مزید ترغیب دینا ہے کہ وہ ترسیلات کی رقم اپنے پیاروں کو پاکستان میں بھجواتے وقت بینکاری کے باضابطہ ذرائع استعمال کریں۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ سٹیٹ بینک اور حکومت پچھلے چند ماہ سے پی بی اے کے ساتھ مل کر اس سکیم کی تیاری پر کام کر رہے تھے، یہ سکیم خود انحصاری کے تحت مارکیٹ کی بنیاد پر کام کرے گی تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی ترسیلات بینکاری کے باضابطہ ذرائع سے وطن بھجوانے میں آسانی فراہم کی جائے،انہیں ترغیب دی جائے اور اس طرح ترسیلات حاصل کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی ترسیلات پاکستان کے طول و عرض میں مقیم لاکھوں خاندانوں کے لئے آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ان ہی ترسیلات سے ان کے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں، تعلیم اور صحت کی سہولت حاصل ہوتی ہے اور سرمایہ کاری اور اقتصادی مواقع کے لئے وسائل مہیا ہوتے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بینک نے ملک کے بیرونی کھاتے میں آنے والے استحکام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی کرنٹ اکائونٹ خسارہ مالی سال 22 میں ناپائیدار سطح تک پہنچ گیا تھا اور اس کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر تیزی سے کم ہو گئے تھے، اس خسارے کو اب قابلِ انتظام سطح تک لایا گیا جس سے زرمبادلہ ذخائر کو مسلسل بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر جو فروری 2023 میں گر کر 3.0 ارب ڈالر رہ گئے تھے، اب 21.4 ارب ڈالر ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ زرمبادلہ ذخائر کی مسلسل مضبوطی کا سبب ماضی کے برعکس بیرونی قرض اکٹھا کرنے کے بجائے مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری ہے۔

گورنر نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہا اور کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی غیر معمولی کارکردگی کو اجاگر کیا جو مالی سال 26 میں 41.6 ارب ڈالر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں جبکہ مالی سال 19 میں یہ 21.7 ارب ڈالر تھیں، اس مدت میں یہ تقریبا دوگنے اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔گورنر جمیل احمد نے زور دیا کہ یہ اعدادوشمار اہم اظہاریوں میں صرف بہتری کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ یہ نہایت مشکلوں سے حاصل کئے گئے استحکام اور استقامت کے بھی عکاس ہیں جس سے تیزی اور مندی کے چکروں کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ پاکستانی معیشت کو نمو کی پائیدار راہ پر گامزن کر سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے یہ تبدیلی لانے کے لئے متعدد پالیسی اور اصلاحاتی اقدامات کئے ہیں۔ برآمدات کے فروغ کے لئے حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں ٹیکس ترغیبات دی ہیں جبکہ سٹیٹ بینک نے سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے برہدف طویل مدتی فنانسنگ اور کارکردگی پر مبنی ری بیٹ سکیمیں بنائیں ۔

روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے دائرے میں بھی توسیع کی گئی ہے تا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاروں اور ظاہر شدہ بیرونی اثاثوں کے حامل پاکستانی باشندوں کو آر ڈی اے کے ذرائع سے سرمایہ کاری کا موقع مل سکے۔ سٹیٹ بینک نے رسائی بڑھانے کے ضمن میں بھی اقداما ت کئے ہیں، حال ہی میں برطانیہ میں ایک آگاہی سیشن کا انعقاد بھی اس میں شامل ہے۔ مزید برآں آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسروں کو فارن کرنسی اکائونٹس کھولنے اور ان اکائونٹس میں برآمدی آمدنی برقرار رکھنے میں سہولت دی گئی ہے۔گورنر نے مزید کہا کہ حکومت گزشتہ برسوں کے دوران ترسیلات زر ملک میں بھجوانے کے لئے باضابطہ ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی سکیمیں متعارف کراچکی ہے ۔ ان سکیموں سے مارکیٹ کی تشکیل ، مزید مالی اداروں کو ایکوسسٹم میں لانے، پاکستان کی ملکی اور عالمی رسائی میں توسیع اور ترسیلات زر کے بڑھتے ہوئے حجم کو پروسیس کرنے کے لئے درکار انفراسٹرکچر مضبوط بنانے میں مدد ملی۔ مارکیٹ کی تشکیل اور ان سکیموں کی لاگت بڑھنے کے باعث حکومت اور سٹیٹ بینک نے بینکاری صنعت کے قریبی اشتراک سے ایک زیادہ پائیدار، مارکیٹ پر مبنی ماڈل کی منصوبہ بندی اور اس پر بتدریج منتقلی انجام دی۔

جمیل احمد نے ترسیلات زر کے باضابطہ ذرائع کو تقویت دینے میں بینکاری کی صنعت کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاسبان کو متعارف کرانا بھی اس منتقلی کی سمت ایک اور قدم ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ملکی معیشت میں اہم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام باضابطہ ذرائع کی کشش کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔ گورنر نے اسکیم کی تشکیل اور اس کا آغاز کرنے پر پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور بینکنگ انڈسٹری کی شراکت داری کو بھی سراہا۔شرکا ء کو سکیم پر بریفنگ دیتے ہوئے پی بی اے کے سی ای او اور سیکرٹری جنرل منیر کمال نے کہا کہ پاسبان سکیم سٹیٹ بینک، حکومت اور بینکاری صنعت کی جانب سے بیرونی شعبے کو سہارا دینے کے لئے مربوط اقدامات کی تازہ ترین کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ سکیم کو بینکوں نے ارسال کنندہ کے بینک کی بنیاد پر تشکیل دیا ہے اور ترسیلاتِ زر کی وصولی کو مفت بنانے کے لئے بینکاری صنعت نے جولائی 2026 سے پورے سال کی جو رقم خرچ کرنی ہے وہ تقریبا 100 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سال بینکوں نے نئے قرضوں اور اجرا ثانی کے لئے برآمدی نومالکاری سہولت ای آر ایف مارک اپ کو رضاکارانہ طور پر 3.0 پوائنٹس کم کر کے 4.50 فیصد کر دیا، جو 1,052 ارب روپے کے ای آر ایف کی حد میں ہے۔ اس سے حکومت کی برآمدات کے ذریعے اقتصادی ترقی کے ایجنڈے اور اس کے ساتھ ایس ایم ای شعبے کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے بینکوں کے برآمدی اور درآمدی قرضوں کو بھی تقویت ملے گی۔منیر کمال نے شرکا کو اسکیم کی اہم خصوصیات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ترسیلاتِ زر وصول کرنے والا جو کسی ایک سہ ماہی میں لگاتار تین ماہ اپنے بینک اکائونٹ میں ماہانہ 100 یا زائد ڈالر وصول کرے، وہ اسکیم میں شرکت کا اہل ہوگا۔100 ڈالر کے مساوی ترسیلاتِ زر کے وصول کنندہ کو ایک ڈیجیٹل، ناقابلِ منتقلی انٹری نمبر جاری کیا جائے گا بشرطیکہ اسے لگاتار تین ماہ تک ترسیلاتِ زرِ کا مذکورہ حجم موصول ہو۔

مثال کے طور پر اگر وصول کنندہ کو لگاتار تین مہینے تک ہر ماہ 100 ڈالر کے مساوی رقم وصول ہوتی ہے تو اسے سہ ماہی کے تین انٹری نمبر ملیں گے۔ بڑی مالیت کی ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے کو وصول شدہ رقم کے تناسب سے اضافی انٹری نمبر ملیں گے۔ مثال کے طور پر اگر وصول کنندہ اکتوبر میں 100ڈالر، نومبر میں 200ڈالر اور دسمبر میں 300 ڈالر وصول کرتا ہے، تو اسے بالترتیب 1، 2 اور 3 انٹری نمبر ملیں گے، یوں سہ ماہی کے دوران اس کے پاس چھ انٹریز جمع ہوجائیں گی ۔ہر سہ ماہی میں مجموعی طور پر 2521 نقد انعامات دیے جائیں گے، جن کی کل مالیت 4 ارب روپے ہوگی، پہلا انعام 10کروڑ روپے کا ایک انعام، دوسرا انعام 2.5 کروڑ روپے کے 20 انعامات، تیسرا انعام ایک کروڑ روپے کے 100 انعامات اور چوتھا انعام 10 لاکھ روپے کے 2400 انعامات ہوں گے، سکیم کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے انعامات 10000 سے زائد خوش نصیبوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔

انعامات کی وسیع تر تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے انعامات زائد ترسیلاتِ زر والے خطوں میں مختص کیے جائیں گے، جن میں 50 فیصد خلیج تعاون کونسل ( ، 15 فیصد برطانیہ، 15 فیصد یورپ، 10 فیصد شمالی امریکہ اور 10 فیصد دیگر ممالک کے لئے ہوں گے۔ پہلا انعام تمام خطوں سے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والوں کے لیے دستیاب ہوگا۔ قرعہ اندازی سہ ماہی ہو گی، پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی، جس میں مالی سال 26 کی دوسری سہ ماہی، یعنی یکم اکتوبر 2026 سے 31 دسمبر 2026 کے دوران موصولہ قابلِ قبول ترسیلات شامل ہوں گی۔ قرعہ اندازی ایک محفوظ، مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ محاسبہ طریقہ کار کے ذریعے کی جائے گی۔ سکیم میں شرکت مکمل طور پر مفت ہے۔

کوئی بینک ترسیلات وصول کنندگان سے اسکیم میں شرکت کی کوئی فیس نہیں لے گا اور نہ ہی کسی ادائیگی، ٹکٹ کی خریداری، کم از کم بیلنس یا کسی دیگر عوض کا تقاضا کرے گا۔ اس حوالے سے چیئرمین پی بی اے ظفر مسعودنے کہا کہ پاکستان کے بینکوں نے مسلسل اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کے لئے 80 ارب روپے کی مراعات کی ذمہ داری سنبھالی، برآمد کنندگان کے لئے ایکسپورٹ ری فنانس شرحوں میں کمی کی، نجی شعبے، زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی ریکارڈ سطح پر پہنچائی اور گردشی قرضے کے حل میں معاونت کی۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی اس داستان کا اتنا ہی اہم حصہ ہیں، سٹیٹ بینک اور حکومت کے اشتراک سے شروع کی جانے والی پاسبان سکیم ان کے کردار کا اعتراف کرتی ہے۔قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان سکیم کے لئے مخصوص ویب پیج https://1link.net.pk/pasbanrewards پر کیا جائے گا، نیزیہ نتائج بینکوں اور پی بی اے کی ویب سائٹس اور آفیشل سوشل میڈیا اکائونٹس پر بھی جاری کئے جائیں گے۔