بجلی کی فراہمی کےنظام میں بہتری لانے کیلئے صرف اعلانات کافی نہیں عملی اقدامات کویقینی بنانا ہوگا، گورنربلوچستان جعفرخان

گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری لانے کیلئے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ان کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا

کوئٹہ۔ 25 ستمبر (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری لانے کیلئے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ان کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ فوری طور پر ختم کر کے بجلی کے صارفین کو مناسب وولٹیج کے ساتھ بلاتعطل بجلی کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ کیسکو حکام اپنے دفتری اور انتظامی طریقہ کار کو مزید موثر اور عوام دوست بنائیں اور شکایات سیل 118 پر موصول ہونے والی بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جائے اور عوام کے ساتھ شائستہ رویہ اختیار کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو انجینئر مرزا اعزاز بیگ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور خصوصاً اوور بلنگ کے منفی اثرات کے باعث باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ایسے صارفین کو سہولت فراہم کرنا ضروری ہے جو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے بروقت بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔گورنر بلوچستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واپڈا اور متعلقہ اداروں کے واجبات کی ادائیگی پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ اداروں کی مجموعی مالی اور انتظامی کارکردگی بہتر ہو اور بجلی کے نظام پر غیر ضروری دباؤ کم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بڑے سرکاری دفاتر میں دفتری اوقات کے دوران بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر اہم عوامی مراکز کو بجلی کی فراہمی میں خصوصی ترجیح دی جائے کیونکہ ان اداروں کی معمول کی سرگرمیاں بجلی کے تسلسل سے براہِ راست وابستہ ہیں۔ گورنر بلوچستان نے عوام پر زور دیا کہ وہ بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی میں بھرپور تعاون کریں۔ حکومت اور بجلی کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کریں جبکہ صارفین کا تعاون بجلی کے نظام کو مستحکم بنانے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 

مزید خبریں