کوئی رکنِ کے پی اسمبلی کسی کو قتل کر دے تو کیا پولیس اسے گرفتار کرنے کے لیے سپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی، محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اب خیبر پختونخوا میں اگر کسی رکنِ اسمبلی (ایم پی اے)پر کسی مجرمانہ فعل کا الزام بھی ہو تو پولیس کےلئے گرفتاری سے پہلے سپیکر کی اجازت لینا لازمی ہے۔

اسلام آباد۔26ستمبر (اے پی پی):وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اب خیبر پختونخوا میں اگر کسی رکنِ اسمبلی (ایم پی اے)پر کسی مجرمانہ فعل کا الزام بھی ہو تو پولیس کےلئے گرفتاری سے پہلے سپیکر کی اجازت لینا لازمی ہے۔

ایکس پر اپنی پوسٹ میں وفاقی وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ اس کے بعد کیا ہوگا، اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی کو قتل کر دے تو کیا پولیس اسے گرفتار کرنے کے لیے پہلے سپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ’’قانون کی نظر میں مساوات‘‘ کی یہ کیا ہی انوکھی تشریح ہے۔ پوسٹ کے آخر میں محسن نقوی نے کہا کہ بہت خوب، اسی طرح جاری رکھیں! اور کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس حوالے سے جاری نوٹیفیکشن بھی شیئر کیا۔