وفاقی دارالحکومت میں بارش کے بعد شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنےکے لیے سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیمیں فیلڈ میں متحرک

چیئرمین سی ڈی اے کے وژن اور ہدایات کے تحت وفاقی دارالحکومت میں علی الصبح ہونے والی بارش کے دوران اور بعد از بارش شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے، نکاسی آب کو موثر بنانے اور ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق برقرار رکھنے کے لیے سی ڈی اے سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ، ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیمیں بھرپور انداز میں فیلڈ میں متحرک رہیں۔

اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سی ڈی اے کے وژن اور ہدایات کے تحت وفاقی دارالحکومت میں علی الصبح ہونے والی بارش کے دوران اور بعد از بارش شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے، نکاسی آب کو موثر بنانے اور ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق برقرار رکھنے کے لیے سی ڈی اے سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ، ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیمیں بھرپور انداز میں فیلڈ میں متحرک رہیں۔بارش کے دوران اور بعد از بارش شہر کے مختلف علاقوں، اہم شاہراہوں، انٹرچینجز، انڈر پاسز اور نشیبی مقامات کی مسلسل نگرانی کی گئی جبکہ بارش کے پانی کی فوری نکاسی اور شہریوں کو درپیش ممکنہ مشکلات کے بروقت ازالے کے لیے موقع پر فوری اقدامات کیے گئے۔متعلقہ افسران اور فیلڈ ٹیموں نے نکاسی آب آپریشن، تعینات افرادی قوت، ڈی واٹرنگ مشینری اور دیگر انتظامات کی مسلسل نگرانی کی۔ پانی کے فوری اخراج کے لیے خصوصی ڈی واٹرنگ ٹیمیں اور مشینری حساس اور نشیبی علاقوں میں تعینات رہیں جس کے باعث پانی جمع ہونے کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔خصوصاً سیکٹر ای الیون سمیت دیگر حساس علاقوں میں بارش کے دوران اور بعد از بارش صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔ شہریوں کی سہولت، محفوظ آمدورفت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ ٹیمیں موقع پر موجود رہیں اور نکاسی آب کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) اسلام آباد اور تمام متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز بھی اپنے اپنے متعلقہ علاقوں میں فیلڈ میں موجود رہے اور زمینی صورتحال کی براہ راست نگرانی کرتے رہے۔

ضلعی انتظامیہ کے افسران نے متعلقہ اداروں اور فیلڈ ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے نکاسی آب، ٹریفک کی روانی اور شہریوں کو درپیش مسائل کے فوری ازالے کے لیے اقدامات کی نگرانی کی۔سی ڈی اے، ایم سی آئی، ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے باہمی رابطے اور مکمل کوآرڈینیشن کے ساتھ فیلڈ میں کام کیا۔ نالوں، ڈرینز اور پانی کے قدرتی گزرگاہوں میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا گیا تاکہ بارش کے پانی کے بہائو میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔سی ڈی اے سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کی فیلڈ ٹیموں کی انتھک محنت اور بروقت کارروائی کو خصوصی طور پر سراہا گیا جنہوں نے بارش کے دوران اور بعد از بارش شہر کے مختلف علاقوں میں کلیئرنگ، ڈی واٹرنگ اور نکاسی آب کے آپریشنز کو بھرپور محنت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا۔ فیلڈ اسٹاف نے مسلسل بارش کے باوجود حساس مقامات پر موجود رہتے ہوئے پانی کے فوری اخراج، سڑکوں اور دیگر اہم مقامات کی کلیئرنگ اور شہریوں کے لیے محفوظ آمدورفت یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ بارش کے دوران اور بعد میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا، بارش کے پانی کی بروقت نکاسی، محفوظ آمدورفت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل، افرادی قوت اور مشینری کو بروئے کار لایا گیا۔

شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور پانی جمع ہونے کی اطلاعات پر فوری کارروائی کے لیے متعلقہ ٹیموں کو موقع پر پہنچنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں جبکہ بارش کے دوران اور بعد از بارش صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی گئی تاکہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کا بروقت تدارک یقینی بنایا جا سکے۔سی ڈی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران اور بعد میں نکاسی آب یا کسی بھی ہنگامی صورتحال سے متعلق شکایات کے لیے شہری سی ڈی اے ہیلپ لائن 1334 اور ایمرجنسی نمبر 16 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔سی ڈی اے، ایم سی آئی اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں بارش کے دوران اور بعد از بارش صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے، موثر نکاسی آب، محفوظ آمدورفت اور معمولاتِ زندگی و ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔سی ڈی اے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اسلام آباد کو صاف، سرسبز، خوبصورت اور شہریوں کے لیے مزید بہتر اور محفوظ شہر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس مقصد کے حصول میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔