چائنا نیوز سروس کے بین الاقوامی ابلاغ مرکز کی نائب ڈائریکٹر وانگ گاؤ فئی نے منگل کو ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کا دورہ کیا جہاں انہیں قومی خبر رساں ادارے کے پیشہ وارانہ امور پر بریفنگ دی گئی
چائنا نیوز سروس کے بین الاقوامی ابلاغ مرکز کی نائب ڈائریکٹر وانگ گاؤ فئی کا ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کا دورہ ، قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر سبین عثمان خٹک کی پیشہ وارانہ امور پر بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):چائنا نیوز سروس کے بین الاقوامی ابلاغ مرکز کی نائب ڈائریکٹر وانگ گاؤ فئی نے منگل کو ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کا دورہ کیا جہاں انہیں قومی خبر رساں ادارے کے پیشہ وارانہ امور پر بریفنگ دی گئی۔اے پی پی کی قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر سبین عثمان خٹک نے وانگ گاؤ فئی کو ادارے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اے پی پی ایک معتبر خبررساں ادارے کی حیثیت سے عصر حاضر کے ذرائع ابلاغ کے بدلتے منظرنامے میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر متنوع خبررساں ادارے کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اے پی پی اپنے صارفین کو کثیر لسانی تحریری خبروں کے علاوہ معیاری ویڈیوز، تصاویر اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے جامع خبری کوریج فراہم کر رہا ہے، انگریزی اور اردو کے علاوہ چار صوبائی زبانوں سمیت چینی اور عربی میں خبریں جاری کی جاتی ہیں جس سے اے پی پی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع دائرہ کار حاصل ہے۔سبین عثمان خٹک نے بتایا کہ اے پی پی کا وسیع ادارتی نیٹ ورک اسلام آباد میں مرکزی دفتر، علاقائی بیوروز اور سٹیشنز، بیجنگ اور اقوام متحدہ میں غیر ملکی نمائندوں اور ملک بھر میں اعزازی نمائندوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے پی پی نے 50 سے زائد ممالک کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کے ساتھ خبروں کے تبادلے کے معاہدے کر رکھے ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں معاون ہیں۔اس موقع پر وانگ گاؤ فئی نے کہا کہ چین اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت، سیاحت اور لوگوں سے متعلق کہانیوں سے روشناس کرا کے پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے ذریعے چین میں پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے چین میں تعینات پاکستان کے متعدد سفیروں کے انٹرویوز بھی کئے جبکہ ان کی تحریروں کو متعدد چینی ذرائع ابلاغ نے شائع اور حوالہ بنایا۔چائنا نیوز سروس کی عہدیدار نے اے پی پی کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا جن میں مرکزی نیوز ڈیسک، رپورٹنگ سیکشن، چینی ڈیسک، اردو نیوز سروس اور سٹوڈیوز شامل تھے جہاں انہوں نے خبررساں امور میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔چائنا نیوز سروس کا قیام 1952 میں عمل میں آیا اور اس کے چینی سرزمین پر صوبوں اور بلدیاتی علاقوں میں 31 جبکہ بیرون ملک 21 شاخیں قائم ہیں۔ اس کی سرکاری ویب سائٹ پر روزانہ اوسطاً 23 کروڑ افراد آتے ہیں جبکہ اس کی موبائل ایپلی کیشن 6 کروڑ سے زائد مرتبہ انسٹال کی جا چکی ہے۔








