ذمہ دار میڈیا اقوام کے درمیان اعتماد اور بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دے سکتا ہے، وجیہہ قمر

باکو۔1اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اور ڈیجیٹل ماحول میں میڈیا کی ذمہ داری محض معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں رہی بلکہ میڈیا اقوام کے درمیان اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آذربائیجان کے دارالحکومت …

باکو۔1اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اور ڈیجیٹل ماحول میں میڈیا کی ذمہ داری محض معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں رہی بلکہ میڈیا اقوام کے درمیان اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ پہلے سی آئی سی اے میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فورم کا مرکزی موضوع “تقسیم شدہ دنیا میں میڈیا کے ذریعے اعتماد کا فروغ” تھا جبکہ وجیہہ قمر نے “سماجی ہم آہنگی اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ میں میڈیا کا کردار” کے موضوع پر پاکستان کی نمائندگی کی۔ وزیرِ مملکت نے کہا کہ آج میڈیا صرف معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل، معاشرتی بیانیوں اور مختلف اقوام کے بارے میں تصورات پر گہرا اثر رکھتا ہے، اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ میڈیا کی ذمہ داری بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غلط یا گمراہ کن بیانیے معاشروں کے درمیان فاصلوں، غلط فہمیوں اور عدم اعتماد کو بڑھا سکتے ہیں جبکہ مستند اور ذمہ دارانہ صحافت مختلف اقوام، ثقافتوں اور معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہے،میڈیا معاشروں کے درمیان فاصلے بڑھا بھی سکتا ہے اور انہی فاصلوں پر پل بھی تعمیر کر سکتا ہے، پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ ہمیں پل تعمیر کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔

وجیہہ قمر نے ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا نے جہاں لاکھوں افراد کو اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا ہے وہیں غلط معلومات، گمراہ کن اطلاعات اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں کے پھیلاؤ میں بھی تیزی آئی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ صرف مزید معلومات سے نہیں بلکہ زیادہ مستند معلومات، مضبوط صحافتی و پیشہ ورانہ معیار، میڈیا لٹریسی اور ذمہ دار ڈیجیٹل شہریت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

وزیرِ مملکت نے نوجوانوں میں میڈیا لٹریسی کے فروغ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں میڈیا لٹریسی کو تعلیم کا ایک اہم حصہ بنانا ہوگا، نوجوانوں کو صرف معلومات حاصل کرنے کے بجائے ان کی سچائی، ماخذ اور مقصد کا تنقیدی جائزہ لینے کی صلاحیت بھی دینا ضروری ہے۔ وجیہہ قمر نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ سوال کرنے کے قابل ہونا چاہئے کہ کیا یہ معلومات قابلِ اعتبار ہیں؟ ان کا ماخذ کیا ہے؟ اور کیا ان کا مقصد آگاہی فراہم کرنا ہے یا معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا؟ ۔وجیہہ قمر نے سی آئی سی اے رکن ممالک کے درمیان میڈیا تعاون کو مزید مؤثر اور پائیدار بنانے کے لئے ایک مستقل سی آئی سی اے میڈیا کوآپریشن فریم ورک کی جانب پیشرفت کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک کے تحت رکن ممالک کے میڈیا اداروں، صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور نوجوان ڈیجیٹل تخلیق کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا سکتا ہے

جبکہ صحافیوں کے تبادلے، مشترکہ دستاویزی فلموں اور میڈیا پروڈکشنز، مواد کے تبادلے، یوتھ میڈیا اقدامات اور مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ وزیرِ مملکت نے نوجوان صحافیوں، طلبہ اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی بھرپور شمولیت پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان محض میڈیا کے صارف نہیں رہے بلکہ وہ تخلیق کار، ابلاغ کار اور رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا ثقافتی، لسانی اور تہذیبی تنوع سے مالا مال خطہ ہے لیکن اس تمام تنوع کے باوجود ہمارے عوام امن، وقار، تعلیم، مواقع اور اپنی آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل جیسی مشترکہ امنگیں رکھتے ہیں،سی آئی سی اے جیسے پلیٹ فارمز ان مشترکہ اقدار کو اجاگر کرنے اور خطے میں عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ وجیہہ قمر نے کہا کہ اعتماد مسلط نہیں کیا جا سکتا، اسے حاصل کرنا پڑتا ہے؛

باہمی تفہیم کے بغیر مکالمہ فروغ نہیں پا سکتا اور پائیدار امن صرف حکومتیں قائم نہیں کر سکتیں بلکہ اس کی بنیاد اس بات پر بھی ہے کہ ہمارے معاشرے ایک دوسرے کو کس طرح دیکھتے، سمجھتے اور ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سی آئی سی اے کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر میڈیا کے ذریعے اعتماد سازی، مکالمے، ثقافتی تنوع کے احترام اور عوامی روابط کے فروغ کے لئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ وزیرِ مملکت نے امید ظاہر کی کہ باکو میں منعقد ہونے والا پہلا سی آئی سی اے میڈیا فورم محض میڈیا کی طاقت پر گفتگو تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے اعتماد کی تعمیر، مکالمے کے فروغ، تنوع کے احترام اور ایشیا کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے لئے عملی اور دیرپا تعاون کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

مزید خبریں