پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا سامنا ، نوجوانوں کوآفات سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہے ہیں، رانا مشہود احمد خان

لاہور۔1اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا سامنا کر رہا ہے، نوجوانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں،قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بااختیار بنانے کےساتھ قومی سطح پر رضاکارانہ خدمات کے فروغ کیلئے گرین یوتھ موومنٹ اور نیشنل والنٹیئر کور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے،اب تک137 جامعات میں گرین یوتھ موومنٹ کلب …

لاہور۔1اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا سامنا کر رہا ہے، نوجوانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں،قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بااختیار بنانے کےساتھ قومی سطح پر رضاکارانہ خدمات کے فروغ کیلئے گرین یوتھ موومنٹ اور نیشنل والنٹیئر کور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے،اب تک137 جامعات میں گرین یوتھ موومنٹ کلب قائم کئے جا چکے ہیں جبکہ این ڈی ایم اے کے تعاون سے تیار تربیتی ماڈیول کے تحت رواں سال28 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ یو ای ٹی کے ساتھ ان کا تعلق ڈپٹی اسپیکر کے دور سے ہے،پاکستان کی پہلی یوتھ پالیسی پنجاب یوتھ پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں 2008-09 کے دوران اس ادارے میں مختلف سیشنز منعقد ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رضاکارانہ خدمات کے شعبے میں کام کرنے والے نوجوان آج دنیا بھر میں اپنی اپنی فیلڈز میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں جبکہ یو ای ٹی میں ماضی میں بھی قومی یکجہتی کے اہم پروگرام منعقد ہوتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گرین یوتھ موومنٹ اور نیشنل والنٹیئر کور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اہم منصوبے ہیں جن کا مقصد نوجوانوں کو ملکی ترقی، ماحول کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور قومی خدمت کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے مختلف منصوبوں میں یونیسف اور این ڈی ایم اے نے بھرپور تعاون فراہم کیا ہے جبکہ این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر تیار کے نام سے تربیتی ماڈیول متعارف کرایا گیا ہے،جس کے ذریعے نوجوانوں کو قدرتی آفات، موسمیاتی خطرات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے تربیت دی جا رہی ہے۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ نیشنل والنٹیئر کور کو موسمیاتی لچک کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور این ڈی ایم اے کیساتھ مل کر رواں سال28 ہزار تربیتیں کرائی جا رہی ہیں۔نجی شعبے کے تعاون سے دو لاکھ طلبہ کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کا موقف پیش کر سکیں اور دنیا کو بتا سکیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ 2012-13 میں بہاولپور میں پاکستان کا پہلا100 میگاواٹ سولر منصوبہ شروع کیا گیا تھا تاہم آج پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی آفات کا سامنا کر رہا ہے لیکن ذمہ دار ممالک کی جانب سے اس مسئلے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی لچک کے لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو منظم اور تربیت یافتہ رضاکاروں میں تبدیل کرنا ہوگا اور گرین یوتھ موومنٹ کے ذریعے جامعات میں ماحول دوست سرگرمیوں، تحقیق اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔رانا مشہود احمد خان نے یو ای ٹی کے وائس چانسلر سے اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرز کی تعیناتیاں میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ2017 میں اکانومسٹ نے پنجاب کے تعلیمی نظام کا موازنہ ایشیا کے بہترین ممالک کے تعلیمی ماڈلز سے کیا تھا جبکہ 2013 سے 2018 تک ایجوکیشن ورلڈ فورم پر پنجاب کو بہترین تعلیمی ماڈلز میں سے ایک قرار دیا جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو اس لیے نقصان پہنچا کہ تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل برقرار نہیں رہا،اس لیے تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل ملک کے تعلیمی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی کا شمار دنیا میں پہچانے جانے والے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں یو ای ٹی کے انجینئرز بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی مصنوعات اور خدمات متعارف کرا رہے ہیں اور ایک یو ای ٹی گریجویٹ اپنی مصنوعات17 ممالک کو برآمد کر رہا ہے۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے،نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی سپر انٹیلیجنس سمیت جدید ٹیکنالوجی کے موضوعات پر بات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہت تیزی سے کام کر رہا ہے اور اپنی اے آئی پالیسی بھی متعارف کرا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدت اور ٹیکنالوجی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ چھ ماہ قبل تیار کیا گیا نصاب بھی بعض اوقات فرسودہ ہو جاتا ہے،اس لیے تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق مسلسل اپنے نصاب اور تربیتی نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وانا،وزیرستان، کشمور اور بلوچستان سمیت ملک کے ہر علاقے کا نوجوان ترقی کے عمل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے،اس لیے تمام نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کے مستقبل کو پاکستان کے اندر اور بیرون ملک یقینی بنانا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان،ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر اثرات بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمان میں چار لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں اور عمان نے پاکستانی نوجوانوں کو فنی تعلیم اور ہنرمندی کے شعبے میں مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث پوری دنیا سمیت عمان میں بھی مہنگائی کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چاہے پٹرول کا بحران ہو یا کوئی اور مشکل صورتحال،حکومت نوجوانوں پر سرمایہ کاری سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نوجوانوں پر سرمایہ کاری جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں کیونکہ انہی نوجوانوں نے پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کو قیادت فراہم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ بات وہ سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے کہہ رہے ہیں۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ چین،امریکا اور مشرق وسطی سمیت دنیا کے مختلف خطے آج پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں،بڑی دیر کے بعد پاکستان کے لیے مواقع کی ایک نئی کھڑکی کھلی ہے تاہم یہ ہمیشہ کھلی نہیں رہے گی،اس لیے نوجوانوں کے مستقبل کو ملک کے اندر اور بیرون ملک محفوظ اور یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا عنقریب کیا جائے گا جبکہ نیشنل گرین یوتھ پالیسی تمام صوبوں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت وفاق پر یقین رکھتی ہے اور مضبوط پاکستان کے لیے ملک کے تمام علاقوں کے نوجوانوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ کامیابی کے لیے باادب،باکردار اور عاجز ہونا ضروری ہے،صاف نیت اور محنت کے ساتھ نوجوان اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے اور انہیں جدید تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

مزید خبریں