صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کا اجلاس ،بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر غور کیا گیا

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کا اجلاس ،بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر غور کیا گیا

کوئٹہ۔ 01 اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کا اجلاس بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔کمیٹی کے مستقل چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث اراکین کی باہمی رضامندی سے پرنس احمد عمر احمدزئی کو اجلاس کا صدر نشین نامزد کیا گیا۔ پرنس احمد عمر احمدزئی اس سے قبل چیئرمین کمیٹی تھے، تاہم قواعد کے تحت کسی بھی ممبر کی نامزدگی بطور پارلیمانی سیکرٹری یا وزیر ہو تو وہ مزید چیئرمین کمیٹی نہیں رہ سکیں گے۔

اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری محکمہ آبپاشی سہیل الرحمٰن بلوچ، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، ڈپٹی سیکرٹری قانون احسان برکت،میر محمد صادق عمرانی، محمد اصغر رند، نور محمد دمڑ اور لیاقت علی لہڑی نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر تفصیلی غور کیا گیا۔

بل کا بنیادی مقصد صوبے میں آبی وسائل کے موثر، مربوط اور پائیدار انتظام کے لیے قانونی فریم ورک وضع کرنا ہے۔ اجلاس میں بل کے تحت زمین اور پانی کے انتظام سے متعلق اداروں کی تنظیم نو کے ذریعے ان کی استعداد اور کارکردگی کو بہتر بنانے، پانی کے وسائل کے موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط نظام تشکیل دینے اور بلوچستان واٹر پالیسی کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ۔

مجوزہ قانون کا مقصد بلوچستان کے آبی وسائل کی پائیدار ترقی، انتظام اور استعمال کو فروغ دینا، صوبے کے عوام کے مفاد میں پانی کے وسائل کی منصفانہ دستیابی یقینی بنانا اور پانی کے انسانی حق کو عملی جامہ پہنانا بھی ہے۔بل میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات بالخصوص سیلاب اور خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے، آبی گزرگاہوں اور کیچمنٹ ایریاز کے تحفظ اور پانی کے محفوظ استعمال اور کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ (IWRM) کو فروغ دینے کا تصور بھی شامل ہے، جس کے ذریعے پانی، زمین اور متعلقہ وسائل کی مربوط ترقی اور انتظام کو یقینی بنا کر معاشی و سماجی بہبود کو فروغ دینا مقصود ہے جبکہ قدرتی ماحولیاتی نظام اور ماحول کے پائیدار تحفظ کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

بل کا دائرہ کار بلوچستان کے مجموعی آبی وسائل پر محیط ہوگا جس میں تالاب، جھیلیں، مستقل و عارضی دریا اور ندی نالے، برفانی میدان، گلیشیئرز، فضائی پانی، زیرِ زمین آبی ذخائر، سطحی پانی کا بہائو، آبی علاقے، مینگروز اور بلوچستان کے دائرہ اختیار میں آنے والے ساحلی پانی شامل ہیں۔

ممبران کمیٹی نے مذکورہ بل پر تفصیلی بحث کی اور بل کے مختلف شقوں پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں صدر نشین نے ممبران کمیٹی، اسمبلی آفیسران، محکمہ آبپاشی اور دیگر شرکا کا شکریہ ادا کیا۔