انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کھیل کے قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دیں

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کھیل کے قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دیں

لاہور۔1اکتوبر (اے پی پی):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کھیل کے قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کا اطلاق یکم اکتوبر یا اس کے بعد شروع ہونے والی تمام بین الاقوامی سیریز پر ہوگا، جبکہ جاری سیریز سابقہ قوانین کے تحت کھیلی جائیں گی۔نئے قوانین کے تحت مردوں کی کرکٹ میں وقت ضائع کرنے والے بلے بازوں کیخلاف کارروائی سخت کردی گئی ہے۔مقررہ وقت میں گیند کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہونے پر پہلی خلاف ورزی پر وارننگ،دوسری پر آخری وارننگ جبکہ تیسری اور اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ ٹیم کو پانچ پنالٹی رنز دیئے جائیں گے۔ مسلسل خلاف ورزیوں کی صورت میں ضابطہ اخلاق کے تحت بھی کارروائی ہو سکے گی۔

خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندوں کے سائز اور وزن کے لیے نئی حدود مقرر کی گئی ہیں،جس کے بعد مردوں،خواتین اور جونیئر کرکٹ کے لیے تین الگ الگ معیار ہوں گے۔اوور تھرو سے متعلق قانون میں بھی وضاحت کردی گئی ہے۔ اوور تھرو اسی وقت تصور ہوگا جب رنز روکنے یا رن آوٹ کرنے کے لیے گیند کو وکٹوں کی جانب پھینکنے کی کوشش کی جائے۔ گیند روکنے یا کسی دوسرے فیلڈر کو منتقل کرنے کی کوشش کو اوور تھرو نہیں سمجھا جائے گا۔نئے قوانین کے مطابق امپائر کو یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ اختیار حاصل ہوگا کہ گیند کب مکمل طور پر رک چکی ہے۔

گیند کا لازمی طور پر بولر یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہونا ضروری نہیں ہوگا۔اسی طرح رن آوٹ یا اسٹمپنگ کے لیے فیلڈر کا گیند پر مکمل کنٹرول ہونا لازم ہوگا،صرف گیند کو ہاتھ سے چھونا کافی نہیں ہوگا۔ٹیسٹ کرکٹ میں باہمی رضامندی سے دن کے وقت پنک گیند استعمال کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضائع ہونے والے وقت کو کم کیا جاسکے۔اس فیصلے کا اعلان میچ شروع ہونے سے قبل کرنا ہوگا اور ایک بار فیصلہ ہونے کے بعد اسے تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔میچ شروع ہونے کے بعد سرخ گیند کو پنک گیند سے تبدیل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔دن کے آخری اوور میں وکٹ گرنے کے باوجود،اگر اوور مکمل نہ ہوا ہو اور موسم و حالات کھیل کے لیے سازگار ہوں تو کھیل ختم نہیں کیا جائے گا۔

باقی گیندیں اسی روز کرائی جائیں گی۔ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ٹی ٹوئنٹی میں وقفہ15 منٹ مقرر کیا گیا ہے،تاہم وقت ضائع ہونے کی صورت میں اسے کم کرکے کم از کم10 منٹ کیا جا سکے گا۔ڈرنکس بریک کے دوران ہیڈ کوچ یا ان کے نامزد نمائندے کو میدان میں آنے کی اجازت ہوگی،جبکہ لیگ سائیڈ وائیڈ سے متعلق آزمائشی قانون کو مستقل طور پر نافذ کردیا گیا ہے۔آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین سارو گنگولی نے کہا کہ کھیل کے قوانین میں کی گئی تبدیلیاں جدید کرکٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرائی گئی ہیں۔

ان کے مطابق نئے قوانین کا مقصد کھیل کی رفتار بہتر بنانا، فیلڈنگ سے متعلق امور میں وضاحت پیدا کرنا اور کھیل کی سالمیت و تسلسل برقرار رکھنا ہے۔آئی سی سی کے جنرل منیجر ایونٹس اینڈ آپریشنز گورو سکسینا نے کہا کہ قوانین میں تبدیلیوں کے لیے تفصیلی اور مثبت مشاورت کی گئی، جبکہ تمام متعلقہ کمیٹیوں نے کھیل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کیا۔

مزید خبریں