لندن۔2اکتوبر (اے پی پی):ٹینس میں بڑی پیش رفت، تمام مشترکہ 1000 ایونٹس میں مرد و خواتین کو برابر انعامی رقم ملے گی۔ بی بی سی کے مطابق ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے مردوں اور خواتین کے مشترکہ تمام 1000 درجے کے ٹینس ایونٹس میں دونوں اے ٹی پی اور ڈبلیو ٹی اے کے فاتح کھلاڑیوں کو برابر انعامی رقم دی جائے گی۔ 1000 …
اے ٹی پی اور ڈبلیو ٹی اے کے مشترکہ 1000 ایونٹس میں یکساں انعامی رقم کا بڑااعلان

مزید خبریں
لندن۔2اکتوبر (اے پی پی):ٹینس میں بڑی پیش رفت، تمام مشترکہ 1000 ایونٹس میں مرد و خواتین کو برابر انعامی رقم ملے گی۔ بی بی سی کے مطابق ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے مردوں اور خواتین کے مشترکہ تمام 1000 درجے کے ٹینس ایونٹس میں دونوں اے ٹی پی اور ڈبلیو ٹی اے کے فاتح کھلاڑیوں کو برابر انعامی رقم دی جائے گی۔ 1000 درجے کے ٹورنامنٹس گرینڈ سلام کے بعد ٹینس کے اعلیٰ ترین مقابلے تصور کیے جاتے ہیں۔
انڈین ویلز، کیلیفورنیا، میامی، میڈرڈ اور بیجنگ میں ہونے والے ایونٹس پہلے ہی مردوں اور خواتین کے لیے یکساں انعامی رقم کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں، جبکہ چاروں گرینڈ سلام ٹورنامنٹس میں بھی انعامی رقم برابر ہے۔ اٹالین اوپن، کینیڈین اوپن اور سنسناٹی اوپن اب اس فہرست میں شامل ہوں گے۔ اٹلی کے دارالحکومت روم میں رواں سال مردوں کے مقابلوں کی مجموعی انعامی رقم 7.3 ملین پاؤنڈ جبکہ خواتین کے لیے 6.3 ملین پاؤنڈ تھی۔
اٹالین اوپن کے منتظمین نے 2023 میں 2025 سے برابر انعامی رقم دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس وعدے پر عمل نہیں ہوسکا۔ ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن کی چیئر ویلیری کیمیلو نے کہا کہ تمام مشترکہ 1000 درجے کے ٹورنامنٹس میں برابر انعامی رقم کا حصول ٹینس کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ کھلاڑیوں کو مسابقتی اور مالی مساوات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن نے ٹینس کیلنڈر میں بھی تبدیلیاں کی ہیں تاکہ کھلاڑیوں کو اپنے شیڈول کے حوالے سے زیادہ آزادی مل سکے۔
عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 50 کھلاڑیوں کے لیے لازمی 500 درجے کے ٹورنامنٹس کی تعداد 6 سے کم کرکے 4 کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ کھلاڑی اپنی درجہ بندی میں ایک اہل 1000 درجے کے ٹورنامنٹ کے نتیجے کو بہتر کارکردگی کی صورت میں 500 یا 250 درجے کے ٹورنامنٹ کے نتیجے سے تبدیل کرسکیں گے۔ عالمی نمبر 3 امریکی کھلاڑی جیسیکا پیگولا نے کہا کہ 2027 کی تبدیلیوں سے کھلاڑیوں کو اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی ترجیحات کے مطابق سیزن ترتیب دینے میں زیادہ آزادی ملے گی، دیگر کھلاڑیوں نے خیرمقدم کیا ہے۔








