ڈگری میں کمپاؤنڈ اضافے کا ذکر نہ ہو تو نفقہ میں سالانہ اضافہ اصل رقم پر ہوگا، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر فیملی کورٹ کی ڈگری میں نفقہ کی سالانہ اضافے کی شرح تو مقرر ہو لیکن یہ واضح نہ ہو کہ اضافہ کمپاؤنڈ بنیاد پر ہوگا یا نان کمپاؤنڈ بنیاد پر تو سالانہ اضافہ اصل مقررہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا، پہلے سے بڑھی ہوئی رقم پر نہیں، عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ …

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر فیملی کورٹ کی ڈگری میں نفقہ کی سالانہ اضافے کی شرح تو مقرر ہو لیکن یہ واضح نہ ہو کہ اضافہ کمپاؤنڈ بنیاد پر ہوگا یا نان کمپاؤنڈ بنیاد پر تو سالانہ اضافہ اصل مقررہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا، پہلے سے بڑھی ہوئی رقم پر نہیں،

عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 17 اے (3) اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب فیملی کورٹ کی ڈگری میں نفقہ میں سالانہ اضافے کی شرح مقرر نہ کی گئی ہو۔ یہ دفعہ فیملی کورٹ کو 10 فیصد سے زیادہ سالانہ اضافہ مقرر کرنے سے نہیں روکتی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے صادق سبحانی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے 16 مارچ 2010 کی ڈگری میں دونوں بچوں کے لیے ماہانہ 2500، 2500 روپے نفقہ مقرر کرتے ہوئے مستقبل میں سالانہ 20 فیصد اضافے کا حکم دیا تھا،

یہ ڈگری حتمی ہوچکی ہے اور عملدرآمد عدالت اس میں ایسے الفاظ شامل نہیں کرسکتی جو ڈگری میں موجود نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ ڈگری میں سالانہ 20 فیصد اضافے کو کمپاؤنڈ بنیاد پر کرنے کا کوئی ذکر نہیں، اس لیے اضافہ ہر سال اصل مقررہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 14 اپریل 2026 کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی اصول طے کیا گیا تھا کہ جہاں ڈگری کمپاؤنڈ اضافے کے بارے میں خاموش ہو وہاں اضافہ اصل مقررہ رقم تک محدود رہے گا اور ہر سال پہلے سے بڑھی ہوئی رقم پر مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا 11 ستمبر 2025 کا فیصلہ اس حد تک کالعدم قرار دے دیا جس میں عملدرآمد عدالت کو نفقہ میں سالانہ 20 فیصد اضافہ کمپاؤنڈ بنیاد پر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی اور 14 اکتوبر 2024 کا اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ بحال کردیا۔عدالت نے قرار دیا کہ عملدرآمد عدالت کے مطابق جون 2024 تک درخواست گزار نے 28 لاکھ 62 ہزار 280 روپے نفقہ ادا کیا جبکہ نان کمپاؤنڈ بنیاد پر قابل ادائیگی رقم 17 لاکھ 98 ہزار روپے بنتی تھی، یوں 10 لاکھ 64 ہزار 280 روپے اضافی ادائیگی ہوئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ بیٹی جب تک قانون کے تحت نفقہ کی حقدار ہے والد نفقہ ادا کرتا رہے گا جبکہ اس کا حق نفقہ ختم ہونے پر والد اضافی ادا کی گئی رقم کی واپسی کا فیصلہ کرسکے گا۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ فیملی کورٹس آئندہ نفقہ مقرر کرتے وقت سالانہ اضافے کی شرح کے ساتھ یہ بھی واضح کریں کہ اضافہ کمپاؤنڈ بنیاد پر ہوگا یا نان کمپاؤنڈ بنیاد پر تاکہ غیر ضروری مقدمات سے بچا جاسکے۔

مزید خبریں