کلی معیشت کا استحکام ، کیپٹل مارکیٹس اور نجکاری کے عمل میں نمایاں پیشرفت ہو رہی ہے ، وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

کلی معیشت کا استحکام ، کیپٹل مارکیٹس اور نجکاری کے عمل میں نمایاں پیشرفت ہو رہی ہے ، وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نےکہا ہے کہ کلی معیشت کا استحکام ، کیپٹل مارکیٹس اور نجکاری کے عمل میں نمایاں پیشرفت ہو رہی ہے، اصلاحات کا مقصد ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لئے مزید گنجائش پیدا کرنا اور معیشت کو سرمایہ کاری پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز ترقی کی جانب لے جانا ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعے کو یہاں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے میں ملاقات کہی ۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کی ترجیحات اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈاک اور سینئر اکانومسٹ لوئی ڈین بھی موجود تھے۔وزیرِ خزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور تکنیکی معاونت، مہارت اور علم کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی کوششوں کے لئے برطانیہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان استحکام سے پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیشرفت کر چکا ہے جس میں پیداواریت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار پر بڑھتی ہوئی توجہ مرکوز ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے کی ترقی کے لئے ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے مقصد سے تکنیکی معاونت کے ذریعے پاکستان کی معاشی تبدیلی کے عمل میں تعاون جاری رکھنے میں برطانیہ کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب امریکی ڈالر کے یورو بانڈ کے کامیاب اجرا کو بھی سراہا اور اسے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ بات چیت میں پاکستان کی ترجیحات کے ساتھ برطانیہ کی معاونت کو ہم آہنگ کرنے اور عملی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے حکومت کی چھ اہم ترجیحات میکرو اکنامک استحکام کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنا، استحکام سے پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیش رفت، ساختی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنا، امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی، فنانس تک رسائی کو وسعت دینا اور پاکستان کو نئی معیشت کے لئے تیار کرنا، کا خاکہ بھی پیش کیا۔ فریقین نے اصلاحاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا جس میں مالیاتی انتظام، ٹیکس انتظامیہ، ڈیجیٹلائزیشن، اخراجات کی مؤثریت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، سرکاری سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس پر خصوصی توجہ دی گئی۔

وزیرِ خزانہ نے عملدرآمد میں تسلسل کو یقینی بنانے اور کاروبار و سرمایہ کاروں کے لئے زیادہ قابلِ پیش گوئی ماحول پیدا کرنے کے لئے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ملاقات میں ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں سرمایہ کاروں کو سہولت اور سرمایہ کاری کے بعد معاونت، سرمایہ کاری کے مؤثر فروغ کے طریقہ کار اور اہم ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی شامل ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے کے لئے حکومت کی جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ترقیاتی منصوبوں کے لئے نجی سرمائے کو متحرک کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے پی پی پی ٹرانزیکشنز کے لئے منصوبوں کی بہتر تیاری، تجارتی طور پر قابلِ عمل ڈھانچوں اور ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

برطا نیہ کی جانب سے صوبائی سطح سمیت متعلقہ تکنیکی مہارت کے ذریعے ان کوششوں میں معاونت میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کلی معیشت کے استحکام، کیپٹل مارکیٹس اور جاری نجکاری کے عمل پر روشنی ڈا لتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لئے مزید گنجائش پیدا کرنا اور معیشت کو سرمایہ کاری پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز ترقی کی جانب لے جانا ہے۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں برطانوی کاروباری اداروں کی زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے نجی شعبے کی ترقی میں برطانوی کمپنیوں اور ڈائسپورا نیٹ ورکس کے کردار کے امکانات کو اجاگر کیاجس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی اور بین الاقوامی سطح پر توسیع میں معاونت بھی شامل ہے۔

دونوں جانب سے ایوی ایشن سیکٹر میں مواقع بشمول پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لئے ممکنہ فنانسنگ اور سرمایہ کاری کی معاونت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانیہ کی جانب سے بین الاقوامی فنانسنگ پارٹنرز کے ممکنہ کردار کو اجاگر کیا گیا جبکہ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس عمل میں متعلقہ تکنیکی اور تجارتی امور کو مدنظر رکھا جائے گا۔وزیرِ خزانہ نے برطانوی فریق کو پاکستان کی بیرونی فنانسنگ حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا جس میں بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی کو مضبوط بنانے، فنانسنگ کے معیار اور پائیداری کو بہتر بنانے، ری فنانسنگ کے دباؤ کو کم کرنے اور طویل مدتی اور زیادہ مسابقتی ذرائع سے سرمائے تک رسائی کو وسعت دینے کی کوششیں شامل ہیں۔دونوں جانب سے معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مسلسل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا گیا جس میں پائیدار ترقی اور نجی شعبے کی شمولیت کے مواقع کو وسعت دینے پر مشترکہ توجہ مرکوز رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید خبریں