پاکستان کی غیرملکی قبضوں کی مذمت، کشمیر اور فلسطین کے حق خودارادیت پر اقوام متحدہ سے عملی اقدام کا مطالبہ

پاکستان کی غیرملکی قبضوں کی مذمت، کشمیر اور فلسطین کے حق خودارادیت پر اقوام متحدہ سے عملی اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ ۔3اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے غیرملکی قبضوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت کی ضمانت دینے والی اپنی دیرینہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں عام بحث سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کو ایک صورتحال میں بھرپور طریقے سے نافذ اور دوسری میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی عثمان جدون کی جانب سے حق خودارادیت اور کشمیر سے متعلق امور پر بیانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں جن میں ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کرنے کی بات کی گئی ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی آزادیوں پر پابندیاں اور دباؤ مزید بڑھا ہے جبکہ علاقے کے آبادیاتی اور سیاسی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، اظہار رائے اور پرامن اجتماع پر پابندیاں اور آبادیاتی تبدیلی کی کوششیں محض طویل عرصے تک جاری رہنے کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔بھارتی مندوب نے جواب کے حق کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دیا، جس پر پاکستانی نمائندے نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت طے کی جانی ہے۔فلسطین کے حوالے سے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ میں، جس صورتحال سے گزر رہے ہیں وہ عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔

انہوں نے شہریوں کے تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور احتساب یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑھ کر فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کو عملی شکل دی جانی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ دستاویزات میں بھی فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور غزہ و مغربی کنارے کی سنگین انسانی صورتحال پر مسلسل توجہ دی گئی ہے۔سفیر عثمان جدون نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو محدود مالی گنجائش، غیر پائیدار قرضوں، موسمیاتی بحرانوں اور بڑھتی ہوئی تکنیکی خلیج جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام بعض اوقات ان عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتا ہے۔

انہوں نے حقِ ترقی کو انسانی حقوق کے ایجنڈے میں اس کا جائز مقام دینے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مقدس علامات کی بے حرمتی اور مسلمانوں و ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سطح پر مستقل اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت تکنیکی ترقی تعلیم، صحت اور مواقع تک رسائی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم ٹیکنالوجی کو انسان مرکز، جامع اور قابل رسائی بنانا اور ترقی پذیر ممالک کو اس کی تشکیل اور فوائد میں مساوی شریک کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی وقار، سماجی انصاف، مساوات اور شمولیت پر مبنی قومی وژن رکھتا ہے اور عالمی سطح پر تصادم کے بجائے مذاکرات اور سیاست زدگی کے بجائے تعاون کو ترجیح دیتا رہے گا۔جوابی بیان میں پاکستانی نمائندے سرفراز احمد گوہر نے بھارتی مندوب کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر مبنی ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے مسئلے کے پرامن حل کی جانب پیش رفت کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔