حکومت بلوچستان نے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت دنیا بھر کی 100 سے زائد ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس پروگرام کے لیے رواں سال امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ پروگرام کے تحت بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو دنیا کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
حکومت بلوچستان نے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت دنیا بھر کی 100 سے زائد ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس پروگرام کے لیے درخواستیں طلب کرلیں

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 04 اکتوبر (اے پی پی):حکومت بلوچستان نے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت دنیا بھر کی 100 سے زائد ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس پروگرام کے لیے رواں سال امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ پروگرام کے تحت بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو دنیا کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق ہر سال بلوچستان سے 10 باصلاحیت امیدواروں کو بیرون ملک ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے اسکالرشپس فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد صوبے کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جدید علمی مواقع تک رسائی فراہم کرنا اور انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنا ہے ۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان کے 6 باصلاحیت امیدوار مختلف ممالک کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جاچکے ہیں۔
ان میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی فرزانہ انور کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں مالیکیولر اینڈ سیل بائیولوجی، بارکھان کے اکبر جان کو ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن میں فوڈ سپائیلج اینڈ فوڈ سیفٹی، قلعہ سیف اللہ کے عمران خان کو کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا میں ایگریکلچر، فاریسٹ بائیولوجی اینڈ، کوہلو کی حمیرا یونس کو آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ میں پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، خاران کی ماہ نور سید کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل میں جینڈر پیریٹی جبکہ قلات کے عبدالقاہر کو ملائیشیا کی یونیورسٹی ملايا میں اسٹرکچر کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے لیے اسکالرشپ فراہم کی گئی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی سطح کے پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے اجرا پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام بلوچستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ نوجوانوں کو دنیا کی بہترین جامعات تک پہنچانے کا سفر شروع ہوچکا ہے اور یہ دراصل بلوچستان کے مستقبل کو بدلنے کا سفر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کا نوجوان مواقع کی تلاش میں دنیا سے پیچھے نہیں رہے گا اور دنیا کی بہترین جامعات بلوچستان کے نوجوانوں کا مقدر بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اسکالرشپس نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے لیے امید، علم اور ترقی کے نئے دروازے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ علم و شعور اور نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ بلوچستان کا مستقبل بندوق تھام کر پہاڑوں میں چھپنے والے نہیں بلکہ کتاب تھام کر دنیا کی ممتاز جامعات میں علم و تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے نوجوان ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو دنیا کی ممتاز جامعات تک پہنچا کر علم و تحقیق کے عالمی نقشے پر انہیں نمایاں مقام دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے عالمی مواقع فراہم کرنا بلوچستان کے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ہے، جس کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔








