وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی ہاؤسنگ سکیم میں مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا نہ اترنے والے شخص کا کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی میں کامیاب قرار پانا اسے فلیٹ یا مکان کی الاٹمنٹ کا قانونی، مستقل یا قابلِ نفاذ حق نہیں دیتا،
قرعہ اندازی میں نام آنے سے نااہل شخص کو الاٹمنٹ کا قانونی حق حاصل نہیں ہوتا، وفاقی آ ئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی ہاؤسنگ سکیم میں مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا نہ اترنے والے شخص کا کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی میں کامیاب قرار پانا اسے فلیٹ یا مکان کی الاٹمنٹ کا قانونی، مستقل یا قابلِ نفاذ حق نہیں دیتا، قرعہ اندازی صرف ان افراد میں انتخاب کا طریقہ ہے جو پہلے ہی اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے حیات آباد فیز فائیو میں 2100 مربع فٹ کے ہائی رائز فلیٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں اور فوجداری اپیل اخراجات سمیت مسترد کر دیں۔عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ ہاؤسنگ سکیم کے اشتہار میں اہلیت کی شرائط بنیادی اور لازمی تھیں، اس لیے ان شرائط پر پورا نہ اترنے والے درخواست گزار محض قرعہ اندازی میں کامیاب قرار دیے جانے کی بنیاد پر الاٹمنٹ کے حق دار نہیں بن سکتے۔
عدالت کے مطابق انتخاب اہلیت کے بعد آتا ہے اور قرعہ اندازی کسی نااہل درخواست گزار کو اہل شخص میں تبدیل نہیں کر سکتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار قرعہ اندازی کے وقت وفاقی حکومت کے حاضر سروس ملازمین تھے اور سکیم میں ان کے لیے مقررہ اہلیت موجود نہیں تھی۔ اس لیے قرعہ اندازی میں ان کے نام آنا قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا، جبکہ انتظامی غلطی کسی شخص کو ایسا حق نہیں دے سکتی جو قانون یا سکیم کی شرائط کے تحت اسے حاصل ہی نہیں تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی انتظامی ادارے کی غلطی یا غفلت سے نااہل شخص کو عوامی مفاد کی محدود سہولت پر مستقل حق حاصل نہیں ہو سکتا۔ سرکاری ادارے اپنی غلطی کی بنیاد پر قانون اور اسکیم کی شرائط سے انحراف جاری رکھنے کے پابند نہیں ہیں، بلکہ غلط الاٹمنٹ کا علم ہونے کے بعد اسے درست کرنا ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ محدود عوامی وسائل سے متعلق اسکیم میں نااہل افراد کو محض انتظامی غلطی کی بنیاد پر الاٹمنٹ برقرار رکھنے کی اجازت دینا ان افراد کے ساتھ ناانصافی ہوگی جو مقررہ شرائط پوری کرتے ہیں۔ انتظامی غلطی کسی اہل درخواست گزار کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنا کسی حاصل شدہ یا مستقل قانونی حق کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ انتظامی غلطی کی اصلاح تھی۔
عدالت کے مطابق متعلقہ حکام نے معاملے پر دوبارہ غور کیا، خصوصی کمیٹی نے درخواست گزاروں کو ذاتی سماعت کا موقع دیا اور ایڈووکیٹ جنرل کی رائے لینے کے بعد 14 دسمبر 2021 کو الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزاروں کو مؤثر سماعت کا موقع دیا گیا تھا، اس لیے فطری انصاف کے تقاضے پورے ہوئے۔ کسی فریق کو سماعت کا موقع ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی وضاحت لازماً اس کے حق میں قبول کی جائے۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ قانون کے خلاف کسی انتظامی غلطی کو جاری رکھنے کی کوئی جائز توقع نہیں ہو سکتی اور نہ ہی انتظامی غلطی کی بنیاد پر حقِ استحقاق یا قانونی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ قانون کے خلاف کوئی استوپیل بھی سرکاری ادارے کو اپنی غلطی درست کرنے سے نہیں روک سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ حیات آباد فلیٹس کی الاٹمنٹ کے معاملے میں متعلقہ حکام نے دائرۂ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کارروائی کی، اہلیت کی شرائط کا جائزہ لیا، درخواست گزاروں کو سماعت کا موقع دیا اور خصوصی کمیٹی نے معاملے کا دوبارہ جائزہ لے کر الاٹمنٹ منسوخ کی، اس لیے فیصلے میں کسی قانونی یا طریقہ کار کی خامی ثابت نہیں ہوئی۔عدالت نے توہینِ عدالت سے متعلق فوجداری اپیل بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے نے درخواست گزاروں کو اسکیم کے تحت اہل قرار نہیں دیا تھا۔
متعلقہ حکام نے ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں معاملے پر دوبارہ غور کیا اور درخواست گزاروں کو سماعت کا موقع دینے کے بعد الاٹمنٹ منسوخ کی، اس لیے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا عنصر موجود نہیں تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار مقررہ اہلیت کی شرائط پوری نہیں کرتے تھے، اس لیے وہ فلیٹس کی الاٹمنٹ کو مستقل یا قابلِ نفاذ حق کے طور پر دعویٰ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے الاٹمنٹ منسوخ کرنا انتظامی غلطی کی قانونی اصلاح تھی۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے تمام درخواستیں اور فوجداری اپیل اخراجات سمیت مسترد کر دیں۔








