مچھلی برآمدات تین ماہ میں 125.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں،وفاقی وزیر برائے بحری امور

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی مچھلی اور سمندری مصنوعات کی برآمدات کی مالیت 74.4 فیصد اضافے کے ساتھ 125.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئی

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی مچھلی اور سمندری مصنوعات کی برآمدات کی مالیت 74.4 فیصد اضافے کے ساتھ 125.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 71.9 ملین ڈالر تھی۔انہوں نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ برآمدات سے آمدن میں اضافہ سمندری ماہی گیری کے شعبے کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت اور ملکی بلیو اکانومی میں اس کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران برآمدات کے حجم میں بھی 74.8 فیصد اضافہ ہوا۔ پہلی سہ ماہی 24-2023میں مچھلی اور سمندری مصنوعات کی برآمدات 35,294 میٹرک ٹن تھیں، جو 25-2024 کی اسی مدت میں بڑھ کر 43,995 میٹرک ٹن اور پہلی سہ ماہی 26-2025میں 61,679 میٹرک ٹن ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ برآمدات کی مالیت بھی مسلسل بڑھی، جو پہلی سہ ماہی25-2024میں 93.28 ملین ڈالر سے بڑھ کر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 125.4 ملین ڈالر ہوگئی۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ برآمدات کی مالیت اور حجم میں نمایاں اضافہ پاکستان کی ماہی گیری کی مصنوعات کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہی گیری کا شعبہ ساحلی معیشت کا اہم حصہ ہے اور ماہی گیر برادریوں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات کی برآمد سے زرمبادلہ بھی حاصل کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے میری ٹائم فشریز ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالی سال 26-2025کے دوران شعبے نے ریکارڈ 568 ملین ڈالر کی برآمدی آمدن حاصل کی۔ انہوں نے پاکستانی ماہی گیری کی مصنوعات کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی منڈی کا کھلنا ایک نمایاں کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جھینگوں کی برآمدات کی بحالی کے لیے حالیہ اقدامات اور پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری کے لائسنسنگ نظام کی بحالی سے سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ ملے گا۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بالخصوص یورپی یونین کی منافع بخش سمندری خوراک کی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی میں حائل ادارہ جاتی، تکنیکی اور استعداد سے متعلق رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہے۔انہوں نے میری ٹائم فشریز ڈپارٹمنٹ کے فشریز ٹریننگ سینٹر کی بحالی پر بھی زور دیا تاکہ انسانی وسائل کی استعداد، تکنیکی اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور بین الاقوامی ماہی گیری اور سمندری خوراک کے حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ماہی گیروں، کشتی بانوں، ماہی گیری کے ماہرین اور دیگر متعلقہ افراد کی استعداد کار بڑھانے سے پاکستانی سمندری مصنوعات کے معیار، تحفظ، سراغ رسانی اور عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ماہی گیری کے شعبے کو جدید بنانے، سمندری وسائل کے پائیدار استعمال، بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور قومی معیشت میں اس شعبے کا کردار مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے ۔